ریلائنس جیو نے اپنی کامیاب سفر کے 10 سال مکمل کر لیے ہیں۔ اس خاص موقع پر جیو کے چیئرمین آکاش امبانی نے ملازمین کے نام ایک خط لکھ کر کمپنی کے اگلے 10 سال کی سمت اور ترجیحات کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دہائی میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)، کنیکٹیویٹی اور ٹیکنالوجی جیو کے لیے سب سے اہم شعبے ہوں گے۔ آکاش امبانی نے کہا کہ جیو اب صرف ایک ٹیلی کام کمپنی نہیں رہ گئی ہے۔ کمپنی کنیکٹیویٹی کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل مصنوعات، انٹرپرائز سلوشنز اور اے آئی کے شعبے میں بھی تیزی سے کام کر رہی ہے۔ آنے والے وقت میں جیو کا مقصد بھارت میں تیار کی جانے والی ان ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر ملک کے ساتھ ساتھ دنیا کی دیگر مارکیٹوں تک پہنچانا ہے۔
اے آئی پر رہے گا خاص فوکس
آکاش امبانی نے اپنے پیغام میں اے آئی کو آنے والے وقت کی ایک بڑی طاقت قرار دیا۔ ان کا ماننا ہے کہ اے آئی لوگوں اور کاروبار کے کام کرنے کے طریقے کو تبدیل کرسکتا ہے۔ اس سے نئی چیزیں تیار کرنے، پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کرنے اور کام کو آسان بنانے میں بڑی مدد ملے گی۔ جیو اسی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کر رہا ہے۔
ملازمین کو دیا کامیابی کا کریڈٹ
جیو کے 10 سالہ سفر میں ملازمین کے کردار کو بھی آکاش امبانی نے اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جیو کی کہانی صرف اعداد و شمار اور کامیابیوں کی کہانی نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کی کہانی ہے جنہوں نے چیلنجز کو قبول کیا اور صارفین کو ہمیشہ ترجیح دی۔ انہوں نے اپنے والد اور ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ آکاش نے کہا کہ مکیش امبانی کے وژن اور رہنمائی نے جیو کے اس سفر کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آکاش امبانی نے کہا کہ جیو کے پہلے عشرے میں فخر کرنے کے لیے بہت کچھ ہے، لیکن کمپنی کی منزل ابھی دور ہے۔ آنے والے 10 سال میں جیو کی توجہ نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے اور بھارتی ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر پہنچانے پر رہے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

