جے ڈی یو کے ترجمان اور ایم ایل سی نیرج کمار
پٹنہ: جے ڈی یو نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ اور بہار کے سابق وزیر اعلی لالو یادو کو سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ’ایکس‘ (پہلے ٹویٹر) کے ذریعہ ریاست کے امن و امان پر سوال اٹھانے پر جوابی حملہ کیا ہے۔ جے ڈی یو نے لالو یادو کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ عمر کے اس مرحلے میں ٹویٹ ٹویٹ کھیلنا بند کیجئے، آپ کے بیٹے کا سیاسی باب بند ہو چکا ہے۔
’’بہار میں اتنی بدعنوان اور سست پولیس کبھی نہیں رہی‘‘
درحقیقت، آر جے ڈی سربراہ لالو یادو نے منگل کے روز بہار میں امن و امان کے معاملے پر وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر حملہ کرتے ہوئے’X’ پر لکھا، ’’نتیش کو بتائیں کہ شام 5 بجے سے پہلے گھروں میں گھس کر ہی کتنے قتل ہو رہے ہیں؟ کیا نتیش جانتے ہیں، پہچانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 65000 افراد قتل ہوئے ہیں؟ نتیش-بی جے پی نے نہ صرف امن و امان کو تباہ کیا ہے، بلکہ اس کا انتم سنسکار بھی کر دیا ہے۔ بہار میں اتنی بدعنوان، لاپرواہ اور سست پولیس کبھی نہیں رہی۔‘‘
’’آپ کے دور میں 118 نسل کشی ہوئی تھی‘‘
لالو یادو کے اس بیان کے بعد جے ڈی یو کے ترجمان اور ایم ایل سی نیرج کمار نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ لالو یادو اب تحقیقات کا موضوع بن گئے ہیں۔ کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوا، پھر آپریشن ہوا، لیکن وہ اپنے بیٹے کی محبت میں ٹویٹ کر رہے ہیں، جبکہ عوام آپ کو 1995 میں نکار کر چکی ہے۔ آپ کو دیکھ کر بہار کے لوگ ڈر جاتے ہیں، خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ نسل کشی کو پروان چڑھانے والے شخص، آپ کے دور میں 118 نسل کشی ہوئی تھی۔
’’بہار میں نتیش کمار کے قانون کی حکمرانی‘‘
انہوں نے کہا کہ آج بھی لوگوں کو یاد ہے جب آپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے شوروم سے نئی گاڑیاں اور فرنیچر ہاؤس سے فرنیچر اٹھوا لیا، کوئی کچھ بول نہیں پایا۔ سبھی کو احساس ہے کہ بہار میں نتیش کمار کے قانون کی حکمرانی ہے اور بہار کی بیٹیاں پولیس فورس میں ہیں اور AK-47 کے ساتھ لوگوں کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
