Bharat Express DD Free Dish

JDU MP speaks on SIR: بہار میں جاری ووٹرلسٹ نظرثانی پر اب جے ڈی یو نے اٹھایا سوال، ایم پی گری دھاری یادو نے بتایا تغلقی فرمان

دوسری جانب، کانگریس نے بھی اس SIR کے عمل کو “تغلقی فرمان” قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سے بہار کے تقریباً 20 فیصد ووٹروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ تنازع بہار کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے تناظر میں اہم ہے، کیونکہ یہ ووٹرز کے حقوق اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر سوال اٹھاتا ہے۔

بہار میں الیکشن کمیشن کی جانب سے اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کے خصوصی نظرثانی  (SIR) کے فیصلے نے تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ اب حکمران جماعت جے ڈی (یو) کے ایم پی گری دھاری یادو نے اسے “تغلقی فرمان” قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بہار کی تاریخ اور جغرافیہ کا کوئی علم نہیں ہے۔ یادو نے پارلیمنٹ کے باہر کہا کہ اس عمل کے لیے دستاویزات جمع کرنا انتہائی مشکل ہے، خاص طور پر مانسون کے موسم میں جب کسان زرعی کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنا تجربہ شیئر کیا کہ انہیں خود دستاویزات جمع کرنے میں دس دن لگے، جس سے عام ووٹروں کے لیے مشکلات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

یادو نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ بنیادی جانکاری سے عاری ہے اور اس سے ووٹروں کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ان کا بیٹا امریکہ میں ہے، تو وہ ایک ماہ کے اندر دستخط کیسے کر سکتا ہے؟ انہوں نے اسے اپنی “ذاتی رائے” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سچ نہیں بول سکتے تو ایم پی بننے کا کیا فائدہ؟ یہ تنقید اس وقت سامنے آئی جب بہار میں SIR کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن نے ہدایات جاری کیں، جس کا مقصد ووٹر لسٹ کو درست کرنا ہے لیکن اسے سیاسی حلقوں میں غیر ضروری اور مشکل عمل سمجھا جا رہا ہے۔

اس تنازع نے سیاسی بحث کو جنم دیا ہے، کیونکہ جے ڈی (یو) بی جے پی کی اتحادی جماعت ہے، اور یادو کی تنقید سے پارٹی لائن سے ہٹ کر ایک آزادانہ موقف ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے، نہ کہ پارٹی کا مؤقف۔ دوسری جانب، کانگریس نے بھی اس SIR کے عمل کو “تغلقی فرمان” قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سے بہار کے تقریباً 20 فیصد ووٹروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہ تنازع بہار کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے تناظر میں اہم ہے، کیونکہ یہ ووٹرز کے حقوق اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں پر سوال اٹھاتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read