Bharat Express DD Free Dish

JMI Student Union Elections Will Held In 2027: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 2027 میں ہوں گے طلبہ یونین کے انتخابات، یونیورسٹی کا بڑا فیصلہ

طلبہ کی تحریک کے درمیان انتظامیہ نے جاری کیا حکم، 15 مئی 2027 تک طلبہ یونین کا آئین نافذ کرنے اور نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے تقریباً 6 ہفتوں کے اندر انتخابات کرانے کا فیصلہ

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھوک ہڑتال کر رہے طلبہ کے مطالبات پر غور کرتے ہوئے ایک اہم حکم جاری کیا ہے۔ اس کے تحت طلبہ یونین کے آئین کی منظوری اور نفاذ کے عمل کو 15 مئی 2027 تک مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق، آئین کی منظوری کے بعد انتخابات کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا ہے کہ طلبہ یونین کے انتخابات لنگڈوہ کمیٹی کی سفارشات اور مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائے جائیں گے۔ حکم کے مطابق، 16 جولائی 2027 سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن کے تقریباً 6 ہفتوں کے اندر انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔

طلبہ کے خلاف کارروائیاں واپس لی جائیں گی

انتظامیہ کے حکم میں احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف جاری کیے گئے وجہ بتاؤ نوٹس، تادیبی کارروائی، اخراج، معطلی اور کیمپس میں داخلے پر پابندی جیسے احکامات واپس لینے کی بات کہی گئی ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس فیصلے کے بعد احتجاج کرنے والے طلبہ سے فوری طور پر اپنا مظاہرہ اور بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

رجسٹرار نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کو جوس پلا کر انشن ختم کرایا

جامعہ کے رجسٹرار مہتاب عالم رضوی نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کو جوس پلا کر ان کا انشن ختم کرایا۔ انہوں نے کہا کہ نئے تعلیمی سیشن کے آغاز کے تقریباً 6 ہفتوں کے اندر طلبہ یونین کے انتخابات کا اعلان کر دیا جائے گا۔ رجسٹرار نے کہا، ’’16 جولائی 2027 سے نیا تعلیمی سیشن شروع ہوگا۔ اس کے 6 ہفتوں کے اندر ہم انتخابات کا اعلان کر دیں گے۔‘‘

شوکاز نوٹس اور پابندیاں ہٹانے کا دعویٰ

مہتاب عالم رضوی نے مزید کہا کہ جن طلبہ پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور جنہیں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے گئے تھے، ان کے خلاف یہ کارروائیاں واپس لے لی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 8 نومبر تک دیوالی کی چھٹیاں ہیں۔ اس کے بعد انتظامیہ طلبہ سے واپس آنے کی درخواست کرے گی اور پھر آف لائن کلاسوں کے ذریعے پڑھائی شروع کی جائے گی۔رجسٹرار نے کہا کہ بعض معاملات یونیورسٹی انتظامیہ کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ کچھ معاملات ایسے ہیں جو اس کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read