کانگریس لیڈر جے رام رمیش۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی– کانگریس رہنما جے رام رمیش نے سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکھڑ کے اچانک استعفیٰ اور وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ رمیش نے اپنے’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا: ’’ جناب جگدیپ دھنکھڑ نے 21 جولائی 2025 کی رات اچانک اور غیرمتوقع صورتحال میں بھارت کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ ایک واقعہ تھا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ ایک دن بعد وزیراعظم نے صرف انہیں بہتر صحت کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔ آج وزیر داخلہ نے اس پر مزید کچھ کہنے کی کوشش کی ہے لیکن انہوں نے راز کو مزید گہرا کردیا ہے۔ اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم اور پرجوش جگدیپ دھنکھڑ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے پوری طرح سے گمنام کیوں ہیں۔ استعفیٰ کا یہ پورا معاملہ واقعی عجیب ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ G2 کیسے کام کرتا ہے۔‘‘
श्री जगदीप धनखड़ ने 21 जुलाई 2025 की रात अचानक और अप्रत्याशित रूप से भारत के उपराष्ट्रपति पद से इस्तीफ़ा दे दिया। यह एक अभूतपूर्व घटना थी। एक दिन बाद, प्रधानमंत्री ने सिर्फ उन्हें अच्छी सेहत की शुभकामनाएं दीं।
आज गृह मंत्री ने इस पर और भी कुछ कहने की कोशिश की है, लेकिन उन्होंने…
— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) August 25, 2025
امت شاہ کا موقف
واضح رہے کہ ایک انٹرویو میں وزیرداخلہ نے نائب صدر کے تعلق سے وضاحت کی تھی کہ وہ رابطے میں کیوں نہیں ہیں؟ امت شاہ نے کہا ”دھنکڑ کا استعفیٰ خود میں واضح ہے۔ انہوں نے اپنے خط میں صحت کی خرابی کو وجہ بتایا ہے اور اپنی شاندار مدت کار کے لیے وزیراعظم، وزراء اور حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات کو دو ٹوک انداز میں مسترد کیا کہ جگدیپ دھنکڑ کو حکومت کی جانب سے کسی قسم کی زبردستی کی گئی یا خاموش کروانے کی کوشش کی گئی ہو۔ اپوزیشن کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دھنکڑ کو خاموش کر دیا گیا ہے یا انہیں نظر بند رکھا گیا ہے۔ اس پر امت شاہ نے جواب دیا ”ایسا لگتا ہے کہ سچ اور جھوٹ کی تعریف اپوزیشن کے بیانات پر مبنی ہے۔ ہمیں اس معاملے پر تنازع پیدا نہیں کرنا چاہیے۔ دھنکڑ صاحب نے آئینی ذمہ داریاں نبھائیں اور ذاتی وجوہات کی بنیاد پر استعفیٰ دیا۔ ان کے اس فیصلے کا احترام کیا جانا چاہئے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
