Bharat Express DD Free Dish

Jagdishpur Assembly Election 2025: ویر کنور سنگھ کی دھرتی پر پھر سیاسی سنگرام، جگدیشپور اسمبلی سیٹ پر آر جے ڈی اور جے ڈی یو میں کون مارے گا بازی؟

جگدیشپور صرف ایک اسمبلی حلقہ نہیں بلکہ 1857 کی پہلی آزادی کی جنگ کے عظیم لیڈر ویر کنور سنگھ کی سرزمین ہے۔ کنور سنگھ نے 80 سال کی عمر میں انگریزوں کے خلاف تلوار اٹھائی تھی اور اپنے قیادت میں بہار میں برطانوی حکومت کی بنیاد ہلا دی تھی۔

جگدیشپور اسمبلی الیکشن 2025۔

پٹنہ: بہار کے بھوجپور ضلع کی جگدیشپور اسمبلی سیٹ ایک بار پھر سیاسی پارٹیوں کے درمیان زبردست مقابلے کی گواہ بننے جا رہی ہے۔ یہ سیٹ آرہ لوک سبھا حلقہ کے تحت آتی ہے اور اس میں جگدیشپور بلاک کے علاوہ پیرو بلاک کے کچھ حصے شامل ہیں۔ اس بار 10 امیدوار میدان میں ہیں۔ جے ڈی یو نے بھگوان سنگھ کشواہا کو ٹکٹ دیا ہے، جبکہ آر جے ڈی نے کشور کنال پر بھروسہ جتایا ہے۔ وہیں جن سوراج پارٹی سے وِنے سنگھ انتخابی میدان میں ہیں۔

ویر کنور سنگھ کی سرزمین ہے جگدیشپور

جگدیشپور صرف ایک اسمبلی حلقہ نہیں بلکہ 1857 کی پہلی آزادی کی جنگ کے عظیم لیڈر ویر کنور سنگھ کی سرزمین ہے۔ کنور سنگھ نے 80 سال کی عمر میں انگریزوں کے خلاف تلوار اٹھائی تھی اور اپنے قیادت میں بہار میں برطانوی حکومت کی بنیاد ہلا دی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جگدیشپور قلعہ اور موجودہ مہاراجہ کالج آج بھی ان کی بہادری کی یادوں کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہاں کی غاروں کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ سیدھے قلعے سے جڑی ہوئی تھیں۔

اتار چڑھاؤ سے بھرا ہے جگدیشپور کا سیاسی سفر

اگر انتخابی تاریخ پر نظر ڈالیں تو جگدیشپور کا سیاسی سفر اتار چڑھاؤ سے بھرا رہا ہے۔ 1951 میں پہلی بار ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے اس سیٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ 1985 میں لوک دل کے ہری نارائن سنگھ نے جیت درج کی تھی، جبکہ 1990 میں آئی پی ایف (اب بھاکپا-مالے) کے بھگوان کشواہا فاتح بنے۔ اس کے بعد بھگوان کشواہا نے مالے چھوڑ کر نتیش کمار کی پارٹی کا دامن تھاما اور 2000 میں سمتا پارٹی کے ٹکٹ پر جیت حاصل کی۔

جے ڈی یو نے مسلسل تین بار جیتی جگدیشپور سیٹ

2000 سے 2005 کے درمیان جے ڈی یو کے بھگوان سنگھ کشواہا نے مسلسل تین بار یہ سیٹ جیتی اور این ڈی اے حکومت میں وزیر بھی بنے۔ لیکن 2010 کے بعد یہاں آر جے ڈی کا دبدبہ بڑھنے لگا۔ آر جے ڈی نے رام وشنو سنگھ یادو کی قیادت میں 2010، 2015 اور 2020 تینوں انتخابات میں جیت درج کی۔ 2020 میں رام وشنو سنگھ یادو نے جے ڈی یو کے بھگوان سنگھ کشواہا کو شکست دی تھی۔

اس سیٹ پر ذات پات کا مساواتی توازن انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں راجپوت اور یادو ووٹرز کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جبکہ کشواہا ووٹرز فیصلہ کن مانے جاتے ہیں۔ رگھوونشی برادری بھی نتیجے کو متاثر کرتی ہے، اور کئی مواقع پر سورن ووٹرز نے بھی جیت اور ہار میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read