مرکزی بجٹ 2026-2027 پر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ملک کی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ نہ تو عوامی مسائل کا حل پیش کرتا ہے اور نہ ہی ریاستوں کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھتا ہے۔ ممتا بنرجی کے مطابق بجٹ میں صرف باتیں اور دعوے ہیں، جبکہ زمینی سطح پر کوئی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آتا۔ وزیر اعلیٰ نے خاص طور پر خواتین کے حوالے سے بجٹ کو مایوس کن قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خواتین کے بااختیار بنانے کی بات تو بار بار کرتی ہے، لیکن بجٹ میں اس کے لیے کوئی مؤثر یا واضح انتظام نہیں کیا گیا۔ ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ خواتین کے نام پر محض سیاسی نعرے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کی تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے کوئی مضبوط مالی تعاون نظر نہیں آتا۔
ممتا بنرجی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مرکزی بجٹ میں مغربی بنگال کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے لیے ایک روپیہ تک مختص نہیں کیا گیا، جو مرکز کے امتیازی رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق بنگال کے عوام کو ان کا جائز حق نہیں دیا جا رہا اور ریاست کے ترقیاتی منصوبوں کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے انتخابی اداروں اور مرکزی ایجنسیوں کے کردار پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں صرف سیاسی دباؤ بنانے کے لیے مختلف اداروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ممتا بنرجی کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن اور دیگر ایجنسیاں غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
معاشی پہلو پر بات کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ یہ بجٹ ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور کرے گا۔ ان کے مطابق عام آدمی کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ سے نجات دلانے کے لیے بجٹ میں کوئی ٹھوس قدم شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے اعلانات کے باوجود عوام کو فوری راحت دینے والی کوئی اسکیم سامنے نہیں آئی۔بجٹ میں تین نئے کوریڈور بنانے کے دعوے کو بھی ممتا بنرجی نے جھوٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں کا کوئی واضح خاکہ یا عملی منصوبہ موجود نہیں ہے اور یہ محض دکھاوا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے آخر میں کہا کہ یہ بجٹ سمت سے خالی ہے، جس میں نہ مستقبل کی واضح حکمت عملی ہے اور نہ ہی ریاستوں اور عوام کے مسائل کا کوئی قابلِ عمل حل۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





