نئی دہلی : رات میں 7 سے 8 گھنٹے کی نیند صحت کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے، لیکن بہت سے لوگ دوپہر کے وقت بھی کچھ دیر کے لیے سوتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دن میں سونا بھی صحت کے لیے مفید ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب وقت اور مناسب دورانیے کے لیے دن میں آرام کیا جائے تو یہ جسم اور دماغ دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔نیشنل سینٹر فار بایوٹیکنالوجی انفارمیشن (NCBI) کی ایک رپورٹ کے مطابق، دن میں مختصر قیلولہ جسم کو تازگی بخشتا ہے، ذہنی تھکن کم کرتا ہے اور کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ دوپہر کے وقت ہلکی نیند آنا ایک معمول کی بات ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو رات کو پوری نیند نہیں لے پاتے یا طویل وقت تک مسلسل کام کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق صرف 10 سے 20 منٹ کا قیلولہ بھی جسم اور دماغ کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ اس سے تھکن، ذہنی دباؤ اور سستی میں کمی آتی ہے، جبکہ انسان خود کو زیادہ چاق و چوبند محسوس کرتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دن میں 30 منٹ سے کم نیند لی جائے تو اس کے سب سے زیادہ فوائد حاصل ہوتے ہیں، کیونکہ اس دوران انسان گہری نیند میں نہیں جاتا، جس کی وجہ سے بیدار ہونے کے بعد غنودگی یا سستی محسوس نہیں ہوتی۔
اس کے برعکس اگر دن میں 90 منٹ یا اس سے زیادہ دیر تک سویا جائے تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں بیدار ہونے کے بعد دماغ کچھ دیر تک پوری طرح فعال نہیں رہتا، جسم میں بھاری پن محسوس ہوتا ہے اور سوچنے سمجھنے یا مشکل کام انجام دینے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ماہرین کی رائے ہے کہ اگر دن کے وقت زیادہ نیند محسوس ہو تو 10 سے 20 منٹ کا مختصر قیلولہ روزمرہ معمول کا حصہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم اس سے زیادہ دیر تک دن میں سونے سے گریز کرنا بہتر ہے تاکہ رات کی نیند بھی متاثر نہ ہو اور مجموعی صحت برقرار رہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



