Bharat Express DD Free Dish

BRICS Summit 2026: مودی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی تصویر نے کھینچی سب کی توجہ، دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری ملاقات

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا یہ ہندوستان کا پہلا دورہ ہے۔ ان کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور امریکہ کے کردار کو لے کر مغربی ایشیا کی صورتحال انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔برکس سربراہی اجلاس نے ہندوستان اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو آمنے سامنے بات چیت کا ایک اہم موقع فراہم کیا۔

نئی دہلی میں جاری 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی ایک تصویر نے خاصی توجہ حاصل کی۔ برکس بزنس فورم کے دوران دونوں لیڈرساتھ ساتھ چلتے نظر آئے۔ وزیر اعظم مودی نے ایرانی صدر کا ہاتھ تھاما اور انہیں پروگرام کے مقام تک لے کر گئے۔ اس دوران روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔دونوں رہنماؤں کی مسکراتی ہوئی تصویر کو ہندوستان کی موجودہ سفارتی پالیسی کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک طرف ہندوستان امریکہ کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو آگے بڑھا رہا ہے، تو دوسری طرف روس اور ایران جیسے ممالک کے ساتھ بھی بات چیت اور تعاون کے راستے کھلے رکھے ہوئے ہے۔

ایک تصویر میں نظر آئی ہندوستان کی سفارت کاری

برکس بزنس فورم میں لیڈروں کی یہ تصویر ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب دنیا کئی بڑے تنازعات اور کشیدگی سے گزر رہی ہے۔ روس-یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا کے بحران نے کئی ممالک کے سامنے سفارتی چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔ ایسے ماحول میں ہندوستان مسلسل تمام اہم فریقوں کے ساتھ بات چیت برقرار رکھنے کی پالیسی پر آگے بڑھ رہا ہے۔مودی اور پزشکیان کی گرمجوشی بھری تصویر ہندوستان کے اسی سفارتی رویے کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔ ہندوستان ایران اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنے کے ساتھ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

پہلی بار ہندوستان کے دورے پر آئے ہیں پزشکیان

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا یہ ہندوستان کا پہلا دورہ ہے۔ ان کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور امریکہ کے کردار کو لے کر مغربی ایشیا کی صورتحال انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔برکس سربراہی اجلاس نے ہندوستان اور ایران کی اعلیٰ قیادت کو آمنے سامنے بات چیت کا ایک اہم موقع فراہم کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، تجارت، رابطہ کاری اور علاقائی امور پر تعاون پہلے ہی زیر بحث رہا ہے۔

دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری ملاقات

وزیر اعظم مودی اور صدر پزشکیان کی برکس کے دوران ہونے والی ملاقات دونوں لیڈروں کی حالیہ دوسری ملاقات ہے۔ دونوں رہنماؤں نے ہندوستان-ایران تعلقات کے ساتھ مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر بھی بات چیت کی۔ملاقات کے بعد وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پزشکیان کا ہندوستان دورہ اس لیے خاص ہے کیونکہ یہ ان کا ہندوستان کا پہلا دورہ ہے۔ انہوں نے ہندوستان اور ایران کی دوستی کو مزید آگے بڑھانے پر زور دیا اور طویل مدت تک دونوں ممالک کے مفاد میں کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مغربی ایشیا کے بحران پر بات چیت اور سفارت کاری پر زور

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے حوالے سے ہندوستان مسلسل بات چیت اور سفارتی راستے کو حل کی بنیاد قرار دیتا رہا ہے۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ خطے میں مستقل امن کے لیے مذاکرات ضروری ہیں۔ہندوستان نے توانائی کے تحفظ کو بھی ایک بڑی تشویش قرار دیا ہے۔ مغربی ایشیا سے تیل اور گیس کی سپلائی ہندوستانی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اسی لیے ہندوستان تنازع کے دوران توانائی کی سپلائی برقرار رکھنے اور سمندری راستوں کو محفوظ رکھنے پر بھی زور دے رہا ہے۔

مودی نے سوشل میڈیا پر کہی یہ بات

ملاقات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر ہندوستان-ایران تعلقات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی دوستی کو آگے بڑھانے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے لیے کام کرنا ضروری ہے۔مودی نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر بھی گفتگو کا ذکر کیا اور کہا کہ ہندوستان امن کے اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ برکس پلیٹ فارم پر مودی اور پزشکیان کی یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب عالمی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ایسے میں ہندوستان کی توجہ کسی ایک خیمے کے بجائے مختلف ممالک کے ساتھ بات چیت اور اپنے قومی مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنے پر نظر آتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read