اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں نَرمدا ندی اور نالے کا ملا ہوا آلودہ پانی سپلائی ہونے کے باعث بیماری مسلسل پھیل رہی ہے۔ جمعہ اور ہفتہ کو دو خواتین کی نجی اسپتالوں میں موت ہو گئی تھی، جبکہ منگل کی صبح علاج کے دوران 70 سالہ بزرگ نے بھی دم توڑ دیا۔ انتظامیہ اور محکمۂ صحت ان اموات کو دیگر بیماریوں سے جوڑ رہے ہیں، لیکن مقامی لوگوں میں خوف اور غصے کا ماحول ہے۔ 24 دسمبر سے شروع ہونے والی قے اور دست کی بیماری اب تک تقریباً 150 افراد کو متاثر کر چکی ہے۔ صرف پیر کے روز ہی 35 سے زائد مریض اسپتال پہنچے۔
مریضوں کی بڑھتی تعداد سے ہلچل
میونسپل کارپوریشن کے نلکوں سے آلودہ پانی آنے کے بعد پیر کی شام اچانک 35 سے زیادہ مریض نجی اسپتالوں میں داخل کرائے گئے، جس سے پورے علاقے میں ہڑکمپ مچ گیا۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے افسران کو ہدایت دی کہ علاج میں کوئی کمی نہ رہے۔ انہوں نے ادویات، ڈاکٹروں اور ضروری وسائل کی دستیابی یقینی بنانے کو کہا۔ وزیر کیلاش وجے ورگیہ بھی دیر رات ورما اور تروینی اسپتال پہنچے اور مریضوں سے ملاقات کر کے یقین دہانی کرائی کہ علاج کا پورا خرچ حکومت اٹھائے گی۔ جن لوگوں نے پہلے رقم ادا کی ہے، وہ واپس کی جائے گی۔
بیماری کی وجہ پر خدشات
بیماری پھیلنے کی دو بڑی وجوہات پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پہلی یہ کہ علاقے میں جاری کھدائی کے دوران ڈرینیج لائن پھٹنے سے نالے کا پانی نل کی سپلائی میں مل گیا ہو۔ دوسری یہ کہ پانی کی ٹنکی آلودہ ہو گئی ہو۔ محکمۂ صحت کی ٹیم مسلسل نمونے لے رہی ہے، لیکن ابھی تک واضح وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔ لوگوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ پانی پینے سے پہلے ابال لیں اور احتیاط برتیں۔ سی ایم ایچ او ڈاکٹر مادھو ہسانی نے کہا کہ صورتحال فی الحال قابو میں ہے، مگر مریضوں کی بڑھتی تعداد تشویش کا باعث ہے۔ تمام مریضوں کو نجی اسپتالوں میں بھیجا جا رہا ہے اور علاج کی مکمل سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
اہلِ خانہ کے الزامات اور معاوضہ
متوفی خواتین سیما بائی پراجاپتی اور اُرمِلا یادو کے اہلِ خانہ نے الزام لگایا کہ طویل عرصے سے علاقے میں آلودہ پانی کا مسئلہ برقرار ہے۔ کئی بار کونسلر کو اطلاع دی گئی، لیکن کوئی مستقل حل نہیں نکلا۔ گزشتہ دنوں نلکوں سے اتنا گندا پانی آ رہا تھا کہ پینا مشکل ہو گیا تھا۔ اسی پانی کے استعمال سے قے اور دست کی شکایت ہوئی اور علاج کے دوران دونوں خواتین کی موت ہو گئی۔ ادھر ورما اسپتال میں داخل بزرگ نندلال پال، جن سے وزیر وجے ورگیہ نے رات میں ملاقات کی تھی، صبح علاج کے دوران انتقال کر گئے۔ ڈاکٹروں نے متعدد بار سی پی آر دے کر انہیں بچانے کی کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکے۔
حکومت کا مدد کا اعلان
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے متوفین کے اہلِ خانہ کو دو دو لاکھ روپے کی امدادی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ افراد کے علاج کا پورا خرچ ریاستی حکومت برداشت کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


