ہندوستان نے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے اور یہ ملک اب عالمی سطح پر صاف توانائی کے رہنماؤں میں شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ہندوستان شمسی توانائی میں تیسرے، ہوا سے توانائی میں چوتھے، اور مجموعی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں بھی چوتھے نمبر پر ہے۔ 2025 تک، ہندوستان نے 232 گیگاواٹ (GW) سے زیادہ قابل تجدید توانائی کی صلاحیت نصب کی ہے، جبکہ مزید 176 GW زیر تعمیر ہے۔ یہ ترقی وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن اور گزشتہ گیارہ سالوں میں کی گئی اصلاحات کا نتیجہ ہے، جنہوں نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر شمسی توانائی کے منصوبوں کو فروغ دیا تھا، جب صاف توانائی عالمی ترجیح نہیں تھی۔
ماضی میں، ہندوستان کا توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار تھا، جیسے کہ 2012 میں گرڈ کی ناکامی نے 48,000 میگاواٹ تک بجلی کی فراہمی متاثر کی تھی۔ اس وقت قابل تجدید توانائی کو مہنگا اور غیر قابل اعتماد سمجھا جاتا تھا، اور سرمایہ کاروں کا اعتماد کم تھا۔ تاہم، رپورٹ گیارہ اہم اصلاحات کی نشاندہی کرتی ہے جنہوں نے اس شعبے کو تبدیل کیا۔ فیڈ-ان ٹیرف سے شفاف، مارکیٹ پر مبنی بولی کے عمل کی طرف منتقلی نے شمسی توانائی کی شرحوں کو 2010 میں 10.95 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 2021 تک 1.99 روپے فی یونٹ تک پہنچا دیا۔ اس کے علاوہ، بین ریاستی ترسیل کے نظام (ISTS) کے چارجز کی چھوٹ نے پروجیکٹ ڈویلپرز کے لیے ایک بڑی رکاوٹ دور کی، جس سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔
گزشتہ سال میں، ہندوستان نے قومی گرڈ میں 29 GW قابل تجدید توانائی کا اضافہ کیا، جس میں شمسی صلاحیت 2014 کے 2.63 GW سے بڑھ کر 2025 میں 108 GW سے زیادہ ہو گئی، جو کہ 41 گنا اضافہ ہے۔ ہوا سے توانائی کی صلاحیت بھی 51 GW سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ منصوبے پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور اب ایک متحدہ ترسیل کے نظام کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں، جو “ون نیشن ون گرڈ” کے وژن کو عملی شکل دے رہا ہے۔ رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ یہ تبدیلی نہ صرف توانائی کی ضروریات کو پورا کر رہی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منتقلی کے بارے میں گفت و شنید کو بھی تشکیل دے رہی ہے۔ ہندوستان کا “ون سن، ون ورلڈ، ون گرڈ” کا وژن دنیا کو دکھا رہا ہے کہ شمسی توانائی کس طرح ممالک کو متحد کر سکتی ہے۔
تاہم، قابل تجدید توانائی کے اہداف کو حاصل کرنے میں کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، زمین کی دستیابی، فنانسنگ کے مسائل، اور کوئلے پر انحصار کو مکمل طور پر ختم کرنا پیچیدہ ہے۔ ہندوستان اب بھی اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے کوئلے پر انحصار کرتا ہے، جو کہ 2023-24 میں 11.71 فیصد بڑھ کر 997.83 ملین ٹن تک پہنچ گیا۔ اس کے باوجود، قابل تجدید توانائی کی تنصیب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اور 2024 میں 24.5 GW شمسی اور 3.4 GW ہوا کی صلاحیت شامل کی گئی۔ حکومتی مراعات، پالیسی اصلاحات، اور مقامی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری نے اس اضافے کو ممکن بنایا، جس سے شمسی توانائی مجموعی قابل تجدید صلاحیت کا 47 فیصد بنتی ہے۔
رپورٹ ہندوستان کی قابل تجدید توانائی کی حکمت عملی کو ایک مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار منصوبے کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ ملک 2030 تک 500 GW غیر فوسل ایندھن کی صلاحیت اور 2047 تک 1,800 GW کے طویل مدتی ہدف کی طرف گامزن ہے۔ رپورٹ پرامید ہے کہ مسلسل اصلاحات اور عالمی تعاون کے ذریعے ہندوستان اپنے اہداف حاصل کر لے گا۔ یہ ترقی نہ صرف ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دے رہی ہے بلکہ معاشی فوائد اور ملازمت کے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے، جیسا کہ اندازہ ہے کہ 2030 تک قابل تجدید توانائی کا شعبہ 35 لاکھ ملازمتیں پیدا کر سکتا ہے۔ ہندوستان کی یہ کامیابی عالمی سطح پر ایک مثال قائم کر رہی ہے کہ ایک ترقی پذیر ملک کس طرح توانائی کی منتقلی میں رہنما بن سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
