نئی دہلی: نومبر 2025 کے دوران بھارت کے آٹھ بنیادی انفراسٹرکچر شعبوں کی مجموعی پیداوار میں 1.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ سیمنٹ، اسٹیل، کھاد اور کوئلے کی پیداوار میں بہتری رہی۔ پیر کو جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ اضافہ اکتوبر میں دیکھے گئے معمولی انحطاط کے بعد بحالی کی علامت ہے۔
بنیادی شعبے صنعتی پیداوار کی ریڑھ کی ہڈی
آٹھ بنیادی صنعتوں کا مشترکہ اشاریہ، جس میں کوئلہ، خام تیل، قدرتی گیس، ریفائنری مصنوعات، کھاد، اسٹیل، سیمنٹ اور بجلی شامل ہیں، صنعتی پیداوار کے اشاریے (IIP) میں 40.27 فیصد وزن رکھتا ہے۔ اکتوبر 2025 کے لیے بنیادی شعبے کی حتمی شرحِ نمو 0.1 فیصد رہی، جسے عارضی اعداد و شمار کے مقابلے میں معمولی طور پر بہتر کیا گیا ہے۔
اپریل تا نومبر مجموعی کارکردگی
مالی سال 2025-26 کے دوران اپریل سے نومبر کے عرصے میں بنیادی شعبوں کی مجموعی پیداوار میں 2.4 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کی نشاندہی کرتا ہے۔
سیمنٹ اور اسٹیل نے دکھائی نمایاں تیزی
انفرادی شعبوں کی بات کی جائے تو نومبر میں سیمنٹ کی پیداوار میں 14.5 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ اسٹیل کی پیداوار 6.1 فیصد بڑھی۔ کوئلے کی پیداوار میں 2.1 فیصد اور کھاد کی پیداوار میں سال بہ سال بنیاد پر 5.6 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو زرعی اور تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی کی علامت ہے۔
توانائی کے شعبے میں دباؤ برقرار
اس کے برعکس خام تیل کی پیداوار میں نومبر کے دوران 3.2 فیصد کمی آئی، جبکہ قدرتی گیس کی پیداوار 2.5 فیصد گھٹ گئی۔ پیٹرولیم ریفائنری مصنوعات میں 0.9 فیصد اور بجلی کی پیداوار میں 2.2 فیصد کی معمولی گراوٹ درج کی گئی۔
مجموعی مدت میں کون آگے، کون پیچھے
اپریل سے نومبر 2025-26 کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق اسٹیل اور سیمنٹ سب سے بہتر کارکردگی دکھانے والے شعبے رہے، جن کی شرحِ نمو بالترتیب 9.7 فیصد اور 8.2 فیصد رہی۔ اسی مدت میں کھاد کی پیداوار 1.3 فیصد بڑھی اور ریفائنری مصنوعات میں 0.2 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا۔ تاہم کوئلہ، خام تیل، قدرتی گیس اور بجلی کے شعبے مجموعی طور پر پیچھے رہے، جہاں بالترتیب 1.4 فیصد، 1.3 فیصد، 3.0 فیصد اور 0.3 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

