ممبئی: ریلائنس فاؤنڈیشن کی بانی اور چیئرپرسن نیتا ایم امبانی نے 2030 کامن ویلتھ گیمز کی صد سالہ میزبانی کے لیے ہندوستان کی سفارش کو ملک کے لیے ایک تاریخی اور قابل فخر لمحہ قرار دیا ہے۔ نیتا امبانی نے اپنے بیان میں کہا: ’’2030 کامن ویلتھ گیمز کی صد سالہ میزبانی کے لیے ہندوستان کی سفارش ہمارے ملک کے لیے ایک تاریخی اور قابلِ فخر کامیابی ہے۔ یہ ہمارے کھیل کے جذبے، ہنر اور عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔‘‘
وزیرِ اعظم مودی کا شکریہ اور اولمپکس کی امید
نیتا امبانی نے مزید کہا: ’’میں ہمارے وزیراعظم نریندر مودی کا ان کی بصیرت افروز قیادت اوراس تاریخی اقدام کے لیے ان کی مسلسل حمایت پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔ یہ لمحہ ہمارے اُس مشترکہ خواب کی طرف ایک اور طاقتور قدم ہے جب ہندوستان اولمپک کھیلوں کی میزبانی کرے گا۔‘‘ اپنے پیغام کے اختتام پر نیتا امبانی نے ’’جے ہند!‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اس لمحے کو ملک کی کھیلوں کی تاریخ کا سنگ میل قرار دیا۔
احمدآباد کو تجویز کردہ میزبان شہر قرار دیا گیا
کامن ویلتھ اسپورٹ کی ایگزیکٹیو بورڈ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے 2030 کے صد سالہ کامن ویلتھ گیمز کے لیے احمدآباد کو میزبان شہر کے طور پر سفارش کر دی ہے۔ یہ فیصلہ کامن ویلتھ اسپورٹ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں 26 نومبر 2025 کو گلاسگو(اسکاٹ لینڈ) میں حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
کامیاب جانچ اور سخت انتخابی عمل
یہ سفارش ایک سخت اور جامع جائزہ عمل کے بعد کی گئی، جس میں تکنیکی منصوبہ بندی، کھلاڑیوں کے تجربات، بنیادی ڈھانچہ، گورننس اور کامن ویلتھ اقدار سے مطابقت رکھنے والے امیدوار شہروں کو کئی معیارات پر پرکھا گیا۔ یہ عمل تنظیم کے ’’گیمز ری سیٹ‘‘ اصولوں کے تحت کیا گیا جس کا مقصد جدت، تعاون اور شفافیت کو فروغ دینا تھا۔
کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں سنگ میل
2030 کا ایونٹ کامن ویلتھ گیمز کے صد سالہ جشن کی علامت ہوگا۔ پہلی بار یہ کھیل 1930 میں ہملٹن (کینیڈا) میں منعقد ہوئے تھے۔ اس اعلان سے کامن ویلتھ اسپورٹ موومنٹ کو ایک نئی سمت اور طویل المدت استحکام حاصل ہونے کی امید ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
