عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر ہندوستان کے وزیر برائے ریلوے، الیکٹرانکس، آئی ٹی اور اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے ایک خصوصی مضمون میں انڈین ریلوے کے پائیدار ترقی کے سفر اور سبز معیشت میں اس کے کردار کو اجاگر کیا۔ مرکزی وزیر نے لکھا کہ ’’جب آپ ریل سے سفر کرنے کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ صرف سہولت نہیں، بلکہ ایک صاف اور سبز ہندوستان کا انتخاب کرتے ہیں۔‘‘
سبز معیشت کی طرف پیش قدمی
اشونی ویشنو نے مضمون میں لکھا کہ انڈین ریلوے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’پنچ امرت‘‘ اہداف، خاص طور پر 2070 تک ’’نیٹ زیرو‘‘ کے ہدف کو پوار کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کے لیے اس کی دو کوششیں اہم ہیں، ایک تو ٹریفک کو سڑکوں سے ریل کی منتقل کرنا اور دوسرے توانائی کے لیے صاف اور قابلِ تجدید ذرائع کا استعمال بڑھانا۔
ریکارڈ کارگو نقل و حمل اور CO₂ میں کمی
اشونی ویشنو نے لکھا کہ 2013-14 میں انڈین ریلوے نے 1,055 ملین ٹن کارگو منتقل کیا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 1,617 ملین ٹن ہو گیا ہے، جس نے ہندوستان کو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا کارگو ریلوے نیٹ ورک بنا دیا ہے۔ اس تبدیلی سے ملک میں 143 ملین ٹن CO₂ کے اخراج سے بچاؤ ممکن ہوا، جو کہ 121 کروڑ درخت لگانے کے مترادف ہے۔
معیشت اور ماحول دونوں کے لیے فائدہ مند
ریل کے ذریعے مال کی نقل و حمل سڑک کے مقابلے میں تقریباً آدھی لاگت میں ہوتی ہے۔ مرکزی وزیر برائے ریل نے لکھا کہ ریلوے نے گزشتہ دہائی میں 3.2 لاکھ کروڑ روپے کے لاجسٹکس اخراجات کی بچت کو ممکن بنایا ہے۔ مزید برآں 2,857 کروڑ لیٹر ڈیزل کی بچت ہوئی، جو کہ تقریباً 2 لاکھ کروڑ روپے کی ایندھن لاگت کی کمی کے برابر ہے۔
جدید، صاف ٹیکنالوجی کی طرف سفر
اشونی ویشنو نے مزید بتایا کہ ’’2014 سے پہلے 60 سالوں میں صرف 21,000 کلومیٹر پٹریاں برقی بنائی گئیں، جب کہ پچھلے 11 سالوں میں 47,000 کلومیٹر پر برقی کاری مکمل ہوئی ہے۔ آج بھارت کی 99 فیصد براڈ گیج لائنیں برقی ہو چکی ہیں۔‘‘۔ انھوں نے مزید بتایا کہ انڈین ریلوے ہائیڈروجن سے چلنے والی جدید ٹرین متعارف کروا رہا ہے، جس کا پہلا روٹ ہریانہ میں جند اور سونی پت کے درمیان ہوگا۔ یہ دنیا کی سب سے طاقتور اور طویل ہائیڈروجن ٹرین ہوگی، جو 2,600 مسافروں کو لے جا سکے گی۔ وہیں ’’اب تک 2,741 کلومیٹر ڈی ایف سی لائنیں آپریشنل ہو چکی ہیں، جس سے سڑکوں پر بوجھ کم ہوا اور ڈیزل کے استعمال اور کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آئی ہے۔‘‘
نیٹ زیرو کا ہدف 2025 تک ممکن
مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے اپنے مضمون میں اشارہ کیا کہ اگرچہ ہندوستان نے 2030 تک انڈین ریلوے کو نیٹ زیرو (اسکوپ 1) بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے، لیکن تیز برقی کاری اور سڑک سے ریل کی جانب مال کی منتقلی کی وجہ سے یہ ہدف 2025 کے آخر تک حاصل ہو سکتا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’’ہر برقی پٹری، ہر نصب شدہ سولر پینل اور سڑک سے ہٹایا گیا ہر مال بردار کنٹینر ایک عہد ہے، ہمارے عوام کے لیے اور ہمارے سیارے کے لیے۔‘‘ انھوں نے واضح کیا کہ انڈین ریلوے ملک کے ماحولیاتی اہداف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور ایک سبز، پائیدار اور خود کفیل ہندوستان کی تعمیر میں سب سے آگے ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
