آپریشن سندور سے متعلق حساس معلومات پاکستانی جاسوسوں کے ساتھ شیئر کرنے کے الزام میں ایک شخص گرفتار کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی نے جمعرات کو اطلاع دی کہ دہلی میں بحریہ کے ہیڈکوارٹر میں تعینات ایک ہندوستانی بحریہ کے عملے کو مبینہ طور پر پیسوں کے عوض پاکستانی جاسوسوں کو حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
خبر کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف ڈاکیارڈ میں اپر ڈویژن کلرک وشال یادو کا تعلق ہریانہ کے ریواڑی سے ہے، جسے بدھ کے روز راجستھان کے جے پور میں گرفتار کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق وشال یادو نے مبینہ طور پر پاکستانی ہینڈلر کے ساتھ آپریشن سندور کے بارے میں معلومات شیئر کی تھیں۔ اس معاملے کی تحقیقات کئی سیکورٹی ایجنسیاں مشترکہ طور پر کریں گی۔
جے پور کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (سی آئی ڈی-سیکیورٹی) وشنو کانت گپتانے کہا کہ وشال یادو نے مبینہ طور پر خفیہ تفصیلات ایک خاتون پاکستانی ہینڈلر کو لیک کی تھیں، جو کہ خود کو ایک ہندوستانی خاتون بتا رہی تھی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ’’یادو نے اعتراف کیا کہ اس نے جو معلومات فراہم کی ہیں ان کے لیے اس نے مجموعی طور پر تقریباً 2 لاکھ روپے وصول کیے ہیں۔ اس میں آپریشن سندھ سے متعلق معلومات لیک کرنے کے لیے 50,000 روپے بھی شامل تھے۔‘‘
فیس بک پر ’’پریا شرما‘‘ کے نام سے تھا پاکستانی ہینڈلر کا اکاؤنٹ
پولیس افسر نے کہا کہ کچھ ادائیگیاں کرپٹو کرنسی کے ذریعے کی گئیں۔ وہیں پی ٹی آئی نے انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے بتایا کہ یادو سے پاکستانی آپریٹو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کے ذریعے رابطہ کیا تھا۔ ہینڈلر نے پریا شرما کے نام سے جعلی پروفائل کا استعمال کرتے ہوئے دوستی کی درخواست بھیجی تھی۔ دونوں نے باقاعدگی سے واٹس ایپ اور بعد میں ٹیلیگرام پر بات چیت کی، جو اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹیڈ ہوتا ہے۔ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سے مراد محفوظ مواصلت کا ایک طریقہ ہے جس میں صرف پیغام بھیجنے والا اور وصول کنندہ ہی مواد تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
پولیس کے حوالے سے بتایا گیا کہ یادو کو ابتدائی طور پر نچلے درجے کی معلومات کے لیے 5,000 سے 6,000 روپے کی ادائیگیاں موصول ہوئیں۔ اس کے بعد اسے زیادہ ادائیگیوں کے بدلے مزید قیمتی معلومات فراہم کرنے کی ترغیب دی گئی۔ پی ٹی آئی نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ اس کے موبائل فون کے فارنسک معائنے میں مالیاتی لین دین، حساس پیغامات اور خفیہ ڈیٹا سمیت وسیع شواہد کا پتہ چلا ہے جو اس نے پاکستانی ہینڈلر کو بھیجے تھے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


