پہلگام دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے پاکستان کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ اس دوران دہلی کی جامع مسجد سے پاکستان کی سرزنش کی گئی ہے۔ نماز جمعہ کے بعد سینکڑوں مسلمان جامع مسجد کی سیڑھیوں پر جمع ہوئے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آواز بلند کی۔

مسلمانوں نے اپنے ہاتھوں میں ترنگا اور ‘ڈاؤن ود پاکستان’ کے پوسٹر اٹھا کر دہشت گردوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ لوگوں کے ہاتھوں میں پوسٹروں پر لکھا ہے کہ “ہر گھر سے نکلے گی آواز آتنک واد کا ہو وناش۔ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ پہلگام پر حملہ انسانیت پر حملہ ہے۔”
#WATCH | Delhi: Bazar Matia Mahal Traders Association held a protest against #PahalgamTerrorAttack on the stairs of Jama Masjid after offering the Juma Namaz pic.twitter.com/esRrNMnHZu
— ANI (@ANI) April 25, 2025
ملک کے کونے کونے سے دہشت گردی اور پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے خلاف احتجاج میں تاجروں نے جمعہ (25 اپریل 2025) کو بند کی کال دی ہے۔ صدر بازار، بھاگیرتھ پلیس، گاندھی نگر، نیا بازار، کھاری باولی، چاوڑی بازار، چاندنی چوک، جامع مسجد اور حوض قاضی سمیت 100 سے زیادہ مارکیٹ ایسوسی ایشن بند میں حصہ لے رہی ہیں۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے دہشت گردوں کی پناہ گاہ بننے والے پاکستان کے خلاف کئی سخت کارروائیاں کی ہیں۔ بھارت نے سندھ آبی معاہدہ (1960) کو فوری طور پر معطل کر دیا۔ سندھ کو پاکستان کی لائف لائن کہا جاتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کو باضابطہ معلومات دیتے ہوئے بھارت نے کہا کہ اس نے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے۔
مرکزی حکومت نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے سلسلے میں جمعرات (24 اپریل 2025) کو ایک آل پارٹی میٹنگ بلائی تھی۔ اس میٹنگ میں حکومت نے کہا کہ پہلگام حملہ ایک ایسے وقت میں ماحول کو خراب کرنے کے لیے کیا گیا جب جموں و کشمیر کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی اور سیاحت پھل پھول رہی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



