پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد اور آپریشن سندور سے پہلے دنیا بھر کے کئی ممالک کو پاکستانی حکومت کے ذریعے دہشت گردی کی حمایت پر بریف کرنے کے بعد اب ایک ہندوستانی وفد اقوام متحدہ کے انسداد دہشت گردی کے ایک اہم ادارے کو دہشت گردی کی حمایت میں پاکستان کے کردار پر بریفنگ دینے نیو یارک پہنچ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس بریفنگ میں دی ریسسٹنٹ فرنٹ (ٹی آر ایف) اور جموں و کشمیر میں حالیہ پہلگام دہشت گردانہ حملے میں اس کے ملوث ہونے کے حوالے سے مخصوص تفصیلات شامل ہوں گی، جس میں 26 لوگ مارے گئے تھے۔ ہندوستانی وفد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 پابندیوں کی کمیٹی کی مانیٹرنگ ٹیم کے ساتھ بات چیت کرنے والی ہے، جو نامزد دہشت گرد اداروں اور افراد کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کرتی ہے۔
یو این او سی ٹی اور سی ٹی ای ڈی کو بھی دی جائے گی بریفنگ
اس کے علاوہ سرحد پار دہشت گردی پر خصوصی توجہ کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون میں تیزی لانے کے لیے بھی اقوام متحدہ کے پارٹنر ممالک کے ساتھ بات چیت کی توقع ہے۔ 1267 کمیٹی کے علاوہ یہ وفد اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد دہشت گردی (UNOCT) اور انسداد دہشت گردی کمیٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹوریٹ (CTED) کے حکام سے بھی ملاقات کرے گا۔
UNOCT اقوام متحدہ کا ایک سیکرٹریٹ دفتر ہے جسے انسداد دہشت گردی میں بین الاقوامی تعاون کو آگے بڑھانے کا کام سونپا گیا ہے۔ یہ دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کی بنیادی وجوہات اور اثرات کا تجزیہ کرنے کا کام کرتا ہے اور ان خطرات کو روکنے کے لیے عالمی کوششوں کو مربوط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہیں CTED کا بنیادی کام انسداد دہشت گردی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ کی نگرانی اور معاونت ہے۔
ہندوستانی وفد کے اس نیو یارک دورے اور اقوام متحدہ کی ان کمیٹیوں سے ملاقاکت کا بنیادی مقصد سرحد پار سے دہشت گردی کے خطرے کو اجاگر کرنا اور پاکستان کی سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کے خلاف احتساب اور عالمی کارروائی کے لیے زور دینا ہے۔ پہلگام حملے کے بعد حکومت نے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی اور اس کے حامیوں کے خلاف عالمی برادری کے سامنے اپنے خدشات پیش کرنے میں تیزی لائی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


