حکومتِ ہند نے اتوار کے روز ان میڈیا رپورٹس کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سال گندم کی پیداوار میں کمی ہو سکتی ہے۔ وزارتِ زراعت نے واضح کیا ہے کہ 2025-26 کے دوران ملک میں گندم کی پیداوار کی صورتحال بہتر اور مستحکم ہے۔ حکومت کے مطابق اگرچہ کچھ علاقوں میں موسم نے منفی اثر ڈالا ہے، لیکن کسانوں کی محنت اور جدید زرعی طریقوں کی بدولت مجموعی پیداوار پر کوئی بڑا منفی اثر نہیں پڑے گا۔
بوائی کے رقبے میں اضافہ
اس سال گندم کی فصل کی صورتحال کو “مخلوط مگر مضبوط” قرار دیا جا رہا ہے۔ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق اس سیزن میں تقریباً 33.4 ملین ہیکٹر زمین پر گندم کی بوائی کی گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.6 ملین ہیکٹر زیادہ ہے۔ بروقت اور ابتدائی بوائی کی وجہ سے فصل کو بہتر طور پر بڑھنے کا موقع ملا، جس سے پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔
منڈیوں میں ریکارڈ آمد اور خریداری
سرکاری خریداری کے اعداد و شمار سے بھی گندم کی مضبوط صورتحال ظاہر ہوتی ہے۔ ہریانہ میں گندم کی آمد حکومت کے ہدف سے تجاوز کر چکی ہے، جہاں اب تک 56.13 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی جا چکی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 9 لاکھ میٹرک ٹن زیادہ ہے۔ اسی طرح مدھیہ پردیش میں بہتر پیداوار کے باعث حکومت نے خریداری کا ہدف 78 لاکھ سے بڑھا کر 100 لاکھ میٹرک ٹن کر دیا ہے۔ مہاراشٹر میں بھی ودربھ اور مراٹھواڑہ جیسے علاقوں سے اناج کی مسلسل آمد جاری ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور بیجوں کا اثر
حکومت کے مطابق فروری میں اچانک درجہ حرارت میں اضافہ اور کچھ علاقوں میں ژالہ باری سے مقامی سطح پر نقصان ضرور ہوا، لیکن اس کی بھرپائی “کلائمیٹ اسمارٹ” بیجوں کے استعمال سے ہو گئی۔ کسانوں نے اس بار ایسی جدید اقسام اپنائیں جو گرمی اور بیماریوں کے خلاف زیادہ مزاحمت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس سال فصل میں کیڑوں اور جڑی بوٹیوں کا حملہ بھی بہت کم رہا ہے، جس سے مجموعی پیداوار بہتر رہنے کی امید ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

