علامتی تصویر(اے این آئی)
عالمی سرمایہ کاری فرم مورگن اسٹینلے کی تازہ رپورٹ کے مطابق، بھارت 2025 اور 2026 میں اپنی پوزیشن کو دنیا کی تیز ترین بڑھتی ہوئی معیشت کے طور پر برقرار رکھے گا، جبکہ عالمی معاشی ترقی میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ بھارت کی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 2025 میں چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں 5.9 فیصد اور 2026 میں 6.4 فیصد رہے گی۔ اس کے برعکس، عالمی معاشی ترقی 2024 کے 3.5 فیصد سے کم ہو کر 2025 میں 2.5 فیصد تک گر جائے گی، جو کہ 2008 کے بعد سے سب سے کم رفتار ہوگی، سوائے عالمی کساد بازاری کے ادوار کے۔ مورگن اسٹینلے کی گلوبل انویسٹمنٹ کمیٹی (جی آئی سی) نے اس رجحان کی وجہ امریکی تجارتی پالیسیوں کی غیر یقینی صورتحال اور بڑھتی ہوئی عالمی تجارت کی تناؤ کو قرار دیا، جو خاص طور پر چین اور امریکہ جیسے بڑے معاشی مراکز کو متاثر کر رہی ہے۔ بھارت کی مضبوط ترقی کی بنیاد اس کی مضبوط گھریلو طلب، سرکاری سرمایہ کاری، اور اصلاحات پر مبنی معاشی پالیسیوں پر استوار ہے، جو اسے عالمی معاشی بدحالی کے درمیان ایک روشن مقام بناتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 2024 کے 2.5 فیصد سے کم ہو کر 2025 اور 2026 میں صرف 1.0 فیصد رہ جائے گی، جو کہ سخت مالیاتی پالیسیوں، صارفین کے اعتماد میں کمی، اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ہے۔ اسی طرح، چین کی معیشت کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، جہاں امریکی ٹیرف کی وجہ سے 2025 میں اس کی ترقی 2024 کے مقابلے میں 0.5 فیصد کم ہو کر 4.0 فیصد اور 2026 میں 4.2 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ افراط زر ایک مستقل تشویش بنی ہوئی ہے۔ یورو زون میں بھی کمزور نجی کھپت اور برآمدات کی وجہ سے ترقی سست رہے گی۔ اس کے مقابلے میں، بھارت کی معیشت مضبوط زرعی پیداوار، تعمیراتی شعبے کی ترقی، اور خدمات کے شعبے کی مضبوط کارکردگی کی بدولت اپنی رفتار برقرار رکھے گی۔ ورلڈ بینک نے بھی بھارت کی 2025-26 کے لیے 6.3 فیصد ترقی کی پیش گوئی کو برقرار رکھا ہے، حالانکہ عالمی تجارت کے دباؤ کی وجہ سے برآمدات پر کچھ دباؤ ہوگا۔ بھارت کی معاشی لچک کو مضبوط میکرو اکنامک بنیادیں، مستحکم مالیاتی شعبہ، اور اچھے مون سون کی توقع مزید تقویت دے رہی ہے۔
تاہم، بھارت کو بھی کچھ چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے کہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں سست روی اور روزگار کی تخلیق میں بہتری کی ضرورت۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اگر بھارت اور امریکہ کے درمیان جاری تجارت مذاکرات 9 جولائی 2025 تک کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے، تو جی ڈی پی کی پیش گوئی میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود، بھارت کی معیشت نے حالیہ برسوں میں قابل ذکر بحالی دکھائی ہے، جیسا کہ مالی سال 2024-25 میں 6.5 فیصد کی ترقی سے ظاہر ہوتا ہے، جو زراعت، تعمیرات، اور خدمات کے شعبوں کی مضبوط کارکردگی سے تقویت یافتہ تھی۔ بھارت کی یہ مسلسل ترقی اس کی سرکاری اصلاحات، ڈیجیٹل معیشت کی توسیع، اور مضبوط گھریلو طلب کی بدولت ممکن ہوئی ہے، جو اسے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مقام بناتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


