Bharat Express DD Free Dish

Indo-Pak Tension: پاکستان کے ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد ہند-پاک کشیدگی میں ہو اضافہ، عالمی برادری نے کیا تشویش کا اظہار

اس کشیدگی میں کم از کم اب تک 48 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس صورت حال پر تشویش پائی جا رہی ہے۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اس ہفتے خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے کیوں کہ دونوں ممالک نے سرحد پار سے فوجی حملے شروع کر دیے ہیں اور ایک دوسرے پر بلا اشتعال جارحیت اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ اس کشیدگی میں کم از کم اب تک 48 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس صورت حال پر تشویش پائی جا رہی ہے۔

پاکستان نے ہفتے کے روز ہندوستان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا، جس میں کئی ہندوستانی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان کی جانب سے ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کے نام سے کیے جانے والے اس آپریشن میں شمالی ہندوستان میں میزائلوں کے ذخیرہ اور اسٹریٹجک اڈوں سمیت کئی مقامات کو نشانہ بنایا۔ ہندوستان نے بھی پاکستان کے خلاف جوابی کارروائی کی ہے۔ وہیں اس نے ادھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور اور بھُج میں اپنے فضائی اڈوں پر تیز رفتار میزائل حملوں کی اطلاع دی۔ ہندوستانی فوج نے آلات اور اہلکاروں کو محدود نقصان کی تصدیق کی اور کہا کہ ’’تمام دشمنانہ کارروائیوں کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا گیا ہے۔‘‘

پاک بھارت شہری ہلاکتیں اور نقصانات

ہندوستانی حکام نے اطلاع دی ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے جموں علاقے میں پاکستانی میزائل حملوں میں پانچ شہری ہلاک ہوئے۔ پاکستان میں حکام نے بتایا کہ فضائی دفاع نے زیادہ تر ہندوستانی میزائل حملوں کو روک دیا ہے، حالانکہ ایک حملے میں مبینہ طور پر دارالحکومت اسلام آباد کے قریب ایک علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔

نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس کا تنازعہ

صورت حال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب پاکستان کی فوج نے ابتدائی طور پر کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کا اجلاس بلایا ہے جو کہ جوہری پالیسی سمیت تزویراتی فیصلوں کے لیے ذمہ دار اعلیٰ سویلین اور ملٹری باڈی ہے۔ تاہم پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بعد میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو دیا جس میں انھوں نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی ہونے والی ہے۔

عالمی برادری کا تناؤ کم کرنے پر زور

عالمی برادری نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر فوری رد عمل کا اظہار کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ہندوستان کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر سے رابطہ کیا اور دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کریں اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کریں۔

وزیر خارجہ جے شنکر نے X پر ایک پوسٹ میں ’’ہندوستان کا نقطہ نظر ہمیشہ نپاتلا اور ذمہ دار رہا ہے اور ایسا ہی رہے گا۔‘‘ وہیں پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ہندوستان کی جانب سے دشمنی ختم کرنے کی صورت میں کشیدگی میں کمی پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہندوستاں رک جاتا ہے تو ہم بھی رکنے پر غور کریں گے۔

فوج کی نقل و حرکت اور تیاری

ہندوستانی فوج نے پاکستان کی طرف سے آگے کی پوزیشنوں کی طرف فوج کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کا مشاہدہ کیا، جو ممکنہ جارحانہ انداز کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہندوستانی ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے کہا ’’ہندوستانی مسلح افواج آپریشنل تیاریوں کی اعلیٰ حالت میں ہیں، ہم اس وقت تک صورت حال کو مزید خراب نہیں کریں گے جب تک کہ پاکستانی فوج بھی کشیدگی میں اضافہ نہ کرے۔‘‘

نیوکلیئر فلیش پوائنٹ پر عالمی تشویش

تجزیہ کاروں اور سفارت کاروں نے طویل عرصے سے خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا اب بھی دنیا کے خطرناک ترین ایٹمی فلیش پوائنٹس میں سے ایک ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا امکان بین الاقوامی برادری کو مسلسل تشویش میں مبتلا کر رہا ہے اور وہ دونوں ممالک پر تناؤ کم کرنے اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر زور ڈال رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read