فرینکلن ٹیمپلٹن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان دنیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کے طور پر اُبھر رہا ہے۔ وکست بھارت 2047 کی سمت اس سفر میں چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کا کردار ناگزیر ہے۔ ایم ایس ایم ایز ملک میں تقریباً 120 ملین ملازمتوں کے لیے ذمہ دار ہیں، جو روزگار کے سیکٹر میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اور ملک میں کاروبار سے متعلق ثقافت کو پروان چڑھا رہے ہیں۔
ایم ایس ایم ایزکے ہندوستان کے مینوفیکچرنگ کے سیکٹر میں اہم بنیاد (ریڑھ کی ہڈی) ہونے کے باوجود، کریڈٹ تک رسائی کی کمی، بالخصوص رسمی چینلز کے ذریعے قرض دینا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ ایم ایس ایم ایز سیکٹر کو فنڈنگ کو ادارہ جاتی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح ان غیر رسمی کاروباری اداروں کو مرکزی دھارے میں لایا جائے اور معیشت میں آمدنی پیدا کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ وزیراعظم کے ذریعے 8 اپریل 2015 کو پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) اور مائیکرو یونٹس ڈیولپمنٹ اینڈ ریفائیننس ایجنسی لمیٹڈ (مدرا لمیٹڈ) کا آغاز ایک تاریخی پہل تھی، جس کا مقصد اس سنگ میل کو حاصل کرنا تھا۔ مدرا یوجنا نے ایک دہائی کے دوران کروڑوں چھوٹے کاروباریوں کو باضابطہ مالیاتی نظام سے قرض تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
پی ایم ایم وائی ملک میں خود روزگار اور صنعت کاری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے
پردھان منتری مدرا یوجنا (پی ایم ایم وائی) نے سرکاری شعبے کے بینکوں ، نجی شعبے کے بینکوں ، علاقائی دیہی بینکوں ، چھوٹے مالیاتی بینکوں ، غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں ، قرض فراہم کرنے والے چھوٹے اداروں وغیرہ سمیت قرض دینے والے متعدد اداروں کے ذریعے اب تک غیر کارپوریٹ ، غیر زرعی چھوٹے کاروباروں کو کامیابی کے ساتھ مالی مدد فراہم کی ہے۔ پی ایم ایم وائی کے تحت منظور شدہ اور تقسیم کی گئی مجموعی رقم 33.54 لاکھ کروڑ روپے اور 32.76 لاکھ کروڑ روپے ہے، جس میں تقریباً 53 کروڑ قرض لینے والوں کے کھاتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ سستےاور بغیر ضمانت والے قرضوں کی پیشکش کرکے، پی ایم ایم وائی ملک میں خود روزگار اور صنعت کاری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ مذکورہ اسکیم نے نئی ملازمتوں کو آسان بنایا ہے اور خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں بے روزگاری کو کم کیا ہے۔
چھوٹے کاروباریوں کو بچولیوں کے چنگل سے نکالنے میں ملی مدد
مُدرا نے پچھلی دہائی کے دوران پی ایم ایم وائی قرضوں کے آخری سرے کے سرمایہ کاروں کو پھر سے مالی اعانت فراہم کرکے چھوٹے کاروباروں کی ترقی کو تقویت دینے کے اپنے مقصد کو حاصل کیا ہے۔ ایس آئی ڈی بی آئی کی مکمل ملکیت والی ذیلی کمپنی کے طور پر مُدرا لمیٹڈ نے مالیاتی خدمات کو زیادہ قابل رسائی اور جامع بنانے کے لیے،خاص طور پر نچلی سطح پر کام کرنے والے چھوٹے کاروباریوں کے لیے مسلسل کام کیا ہے۔ اس نے ان چھوٹے کاروباریوں کو بچولیوں کے چنگل سے نکالنے میں مدد کی ہے اور اپنی ترقی کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے انہیں انتہائی ضروری مالی وسائل فراہم کیے ہیں۔
مدرا قرضوں نے علاقائی اور متوازن ترقی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا
خواتین کاروباریوں کے لیے اہمیت کے حامل 68 فیصد تک مُدرا قرضوں کو بڑھایا گیا ہے، جس سے انہیں مالی آزادی حاصل کرنے اور اپنے کنبوں اور برادریوں کے لیے معنی خیز تعاون کرنے کی خاطر بااختیار بنایا گیا ہے۔ مزید یہ کہ، معاشرے کے کمزور طبقات ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی اس سے بڑے پیمانے پر مستفید ہوئے ہیں،جنھوں نے 50 فیصد تک مدرا قرضوں کو حاصل کیا ہے۔ نئے کاروباریوں/کھاتوں کو دیئے گئے مدرا قرضوں کے 21 فیصد کے ساتھ،مُدرا کاروباری ثقافت کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ ملک کے تمام اضلاع میں تقسیم کردہ قرضوں کے ساتھ، مدرا قرضوں نے علاقائی اور متوازن ترقی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پی ایم ایم وائی کے تحت کم لاگت والے، غیر ضمانت والے قرضوں نے گزشتہ برسوں میں چھوٹے اداروں کے کریڈٹ کے منظر نامے کو تبدیل کر دیا ہے، جس سے اس شعبے کو نئی بلندیاں حاصل ہوئی ہیں۔
چھوٹے کاروبار کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو تسلیم کرتے ہوئے، بھارتی حکومت نے حال ہی میں ترون پلس متعارف کرایا ، جو پی ایم ایم وائی کے تحت قرض کا ایک نیا زمرہ ہے، جو قرض کی رقم کو بڑھا کر 20 لاکھ روپے کر دیتا ہے۔ اس اصلاح نے اُن کاروباریوں کی کوششوں کو تسلیم کیا جنہوں نے غیر معمولی ساکھ اور ادائیگی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ نئے ترون پلس زمرے سے پہلے، یہ مدرا قرضے، تین قرضوں کے زمرے کے ذریعے پیش کیے جاتے تھے۔ (i) شیشو: 50,000 روپے تک کا قرض، (ii) کشور: 50,000 روپے سے زیادہ اور 5 لاکھ روپے تک کا قرض اور (iii) ترون: 5 لاکھ روپے سے زیادہ اور 10 لاکھ روپے تک کا قرض۔ پی ایم ایم وائی قرضوں کو ورکنگ کیپٹل کی سہولت کے طور پر ٹرم لون یعنی مدت کی کی شکل میں بھی بڑھایا جاتا ہے۔ مائیکرو یونٹس کو مناسب قیمت پر ورکنگ کیپٹل فنڈز سے مؤثر طریقے سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنانے کے لیے قرض دینے والے مختلف اداروں کے ذریعے پی ایم ایم وائی قرض لینے والوں کو مدرا کارڈ نامی روپے پلیٹ فارم پر ایک ڈیبٹ کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔
اسکیم پسماندہ لوگوں کے خوابوں کوکررہی ہے پورا
اس اسکیم نے قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسکیم کے لاگو ہونے کے پہلے سال میں بالترتیب 3,533 کروڑ روپے اور 3,526 کروڑ روپے تھی اور جو 31 مارچ 2025 تک مجموعی طور پر بڑھ کر بالترتیب 1.03 لاکھ کروڑ روپے اور 1 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی۔ اس پیمانے کو حاصل کرنے کے لیے، مدرا لمیٹڈ نے گذشتہ برسوں کے دوران 120 سے زیادہ قرض دینے والے ممبر اداروں کے ساتھ شراکت داری کی اور انہیں ری فنانس سپورٹ فراہم کی۔ پی ایم مدرا یوجنا نے حکومت کے 10 سال پہلے تصور کردہ اپنے مینڈیٹ کو پورا کیا ہے۔ جیسے جیسے اس کے دس سال مکمل ہو رہے ہیں، یہ اسکیم پسماندہ لوگوں کے خوابوں کو پورا کررہی ہے اور اس نے ملک میں کروڑوں چھوٹے کاروباریوں کی امنگوں کو پرواز عطا کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

