Bharat Express DD Free Dish

India’s biggest digital arrest fraud: بھارت کا سب سے بڑا ڈیجیٹل اریسٹ فراڈ، خاتون سے سی بی آئی بن کر 32 کروڑ ٹرانسفر کروا لیے

یہ گرفتاری چھ ماہ سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہی۔ اس دوران سی بی آئی افسر بن کر جعلی لوگوں نے اسے مسلسل ویڈیو نگرانی میں رکھا اور بینک ٹرانسفر کے ذریعے 187 بار اس سے رقم نکلوالی۔

بنگلورو میں بھارت کا اب تک کا سب سے بڑا ڈجیٹل اریسٹ فراڈ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ٹھگوں نے 57 سالہ خاتون کو’ڈیجیٹل گرفتاری‘  میں رکھتے ہوئے تقریباً 32 کروڑ روپے ہتھیا لیے۔ یہ جعلی گرفتاری چھ ماہ سے بھی زیادہ جاری رہی۔ اس دوران سی بی آئی افسر بن کر لوگوں نے اسے مسلسل ویڈیو نگرانی میں رکھا اور اس سے 187 مرتبہ بینک ٹرانسفر کے ذریعے رقم منگوائی۔ یہ واقعہ ستمبر 2024 میں شروع ہوا تھا، جس کا مقدمہ اب درج کیا گیا ہے۔ سوفٹ ویئر انجینئر خاتون نے اس سال کے آغاز میں افسران سے رابطہ کیا اور کئی مہینوں کی کوشش کے بعد اسے احساس ہوا کہ اس کے ساتھ بڑی دھوکہ دہی ہوئی ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

خاتون کو ایک شخص کا فون آیا جس نے خود کو ڈی ایچ ایل کا ایگزیکٹو بتایا اور کہا کہ اس کی کمپنی کے ممبئی کے اندھیری سینٹر پر اس کے نام ایک پارسل آیا ہے، جس میں تین کریڈٹ کارڈ، چار پاسپورٹ اور ممنوعہ ایم ڈی ایم اے منشیات موجود تھی۔

جب خاتون نے کہا کہ اس کا اس پارسل سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ بنگلورو میں رہتی ہے، تو کال کرنے والے نے اسے خبردار کیا کہ اس کا فون نمبر پارسل سے منسلک ہے اور یہ معاملہ ’سائبر کرائم‘ ہو سکتا ہے۔ پھر کال ایک ایسے شخص کو ٹرانسفر کر دی گئی جس نے خود کو سی بی آئی افسر بتایا اور کہا کہ ’تمام ثبوت تمہارے خلاف ہیں‘۔اس کے بعد ٹھگوں نے اسے پولیس سے رابطہ نہ کرنے کی تنبیہ کی اور کہا کہ مجرم اس کے گھر کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اپنے خاندان کی حفاظت اور بیٹے کی آنے والی شادی کے خوف سے وہ ان کے کہنے پر چلتی رہی۔

ویڈیو نگرانی اور جعلی افسران

اس سال مئی میں اسکائپ بند ہونے سے پہلے اسے دو اسکائپ آئی ڈی بنانے اور مستقل ویڈیو کال پر رہنے کا حکم دیا گیا۔ خود کو موہت ہانڈا بتانے والے شخص نے دو دن تک نگرانی کی، پھر ایک اور شخص، راہل یادو نے ایک ہفتہ تک نظر رکھی۔ ایک اور ٹھگ، پردیپ سنگھ، نے خود کو سینئر سی بی آئی افسر بتایا اور اس پر اپنی بےگناہی ثابت کرنے کا دباؤ بنایا۔

یقین دہانی کے وعدے اور مسلسل ٹرانسفر

24 ستمبر سے 22 اکتوبر کے درمیان اس نے اپنی مالی معلومات دیں اور بڑی رقم ٹرانسفر کرنا شروع کر دی۔ 24 اکتوبر سے 3 نومبر تک اس نے دو کروڑ روپے ضمانت کے طور پر جمع کروائے، پھر ٹیکس کے نام پر بھی ادائیگیاں کیں۔ آخرکار اس نے اپنی فکسڈ ڈپازٹ توڑ دی، دیگر بچتیں نکال لیں اور ٹھگوں کے کہنے پر 187 ٹرانزیکشنز میں 31.83 کروڑ روپے بھیج دیے۔ اسے بار بار یقین دلایا گیا کہ فروری 2025 تک ’ویری فیکیشن‘ کے بعد رقم واپس کر دی جائے گی۔ ٹھگوں نے دسمبر میں اس کے بیٹے کی منگنی سے پہلے کلیئرنس لیٹر دینے کا وعدہ کیا اور اسے ایک جعلی دستاویز بھی دیا۔مسلسل دباؤ اور نگرانی نے اسے ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار کر دیا اور اسے ایک ماہ کی طبی دیکھ بھال کی ضرورت پڑی۔

ہر وقت نگرانی اور معلومات دینے پر مجبور

متاثرہ خاتون نے پی ٹی آئی کو بتایا: ’’اس پورے وقت مجھے اسکائپ پر بتانا پڑتا تھا کہ میں کہاں ہوں اور کیا کر رہی ہوں۔ پردیپ سنگھ روز رابطہ میں رہتا تھا۔ مجھے کہا گیا تھا کہ تمام کارروائیاں پوری ہونے کے بعد 25 فروری تک رقم واپس کر دی جائے گی۔‘‘ دسمبر کے بعد دھوکہ بازوں نے ’پروسیسنگ فیس‘  کا مطالبہ جاری رکھا اور وعدہ کیے گئے رِفنڈ کو فروری سے مارچ تک ٹالتے رہے۔ کچھ دنوں بعد اچانک ان کا رابطہ منقطہ  ہو گیا۔ خاتون نے پولیس میں شکایت درج کرانے سے پہلے جون میں اپنے بیٹے کی شادی تک انتظار کیا۔انہوں نے اپنی شکایت میں کہا:’’کل ملا کر 187 لین دین کے ذریعے مجھے تقریباً 31.83 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے افسران سے معاملے کی گہرائی سے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ ادھر پولیس نے اب اس ریکٹ کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read