Bharat Express DD Free Dish

Air Pollution: ترقی کی راہ میں گھٹ رہا ہے بھارت کا دم! کوئلہ جلانے سے زہریلی ہو رہی ہوا، ہر سال 9 لاکھ اموات

شہر مسلسل پھیل رہے ہیں اور روزگار کی تلاش میں بڑی تعداد میں لوگ شہری علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ لیکن اس ترقی کی ایک بڑی قیمت آلودہ ہوا کی شکل میں بھی ادا کی جا رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں کوئلہ جلانے سے پیدا ہونے والی زہریلی گیسوں اور فضائی آلودگی کے باعث ہر سال تقریباً 9 لاکھ افراد جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

نئی دہلی: ہندوستان کی تیزی سے بڑھتی معیشت دنیا میں اپنا اثر پیدا کر رہی ہے۔ 7 فیصد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی جی ڈی پی کروڑوں لوگوں کے خوابوں کو شکل دے رہی ہے، شہر مسلسل پھیل رہے ہیں اور روزگار کی تلاش میں بڑی تعداد میں لوگ شہری علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ لیکن اس ترقی کی ایک بڑی قیمت آلودہ ہوا کی شکل میں بھی ادا کی جا رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں کوئلہ جلانے سے پیدا ہونے والی زہریلی گیسوں اور فضائی آلودگی کے باعث ہر سال تقریباً 9 لاکھ افراد جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

20 سال میں بجلی کی طلب 4 گنا بڑھی

رپورٹ کے مطابق سال 2000 سے 2020 کے درمیان ہندوستان میں فی کس جی ڈی پی تقریباً 3 گنا بڑھی، جبکہ بجلی کی طلب 4 گنا تک بڑھ گئی۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کرنے کے لیے ملک میں بڑے پیمانے پر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس لگائے گئے۔ ’نیچر‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس ملک کی مجموعی بجلی پیداوار میں تقریباً 76 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ کوئلہ جلانے سے سلفر ڈائی آکسائیڈ (SO₂) سمیت کئی دیگر آلودہ عناصر خارج ہوتے ہیں، جو فضا میں شامل ہوکر PM 2.5 جیسے انتہائی خطرناک ذرات پیدا کرتے ہیں۔

زہریلی ہوا سے پھیپھڑوں کو نقصان

PM 2.5 کے ذرات انتہائی باریک ہوتے ہیں اور سانس کے ذریعے براہ راست پھیپھڑوں اور خون کے بہاؤ تک پہنچ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں کے مقابلے میں ہندوستان کے شہری علاقوں میں فضائی آلودگی زیادہ ہے۔ شہری علاقوں میں ہوا میں موجود ایروسول کا بوجھ تقریباً دوگنا ہوگیا ہے، جس میں سلفیٹ کا حصہ تقریباً 46 فیصد ہے۔ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کا براہ راست اثر لوگوں کی صحت پر پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں PM 2.5 آلودگی سے ہونے والی اموات کی تعداد سال 2000 میں تقریباً 7 لاکھ تھی، جو 2020 تک بڑھ کر تقریباً 9 لاکھ ہوگئی۔ یعنی صرف شہری علاقوں میں فضائی آلودگی کے باعث ہر سال لاکھوں افراد کی جان جا رہی ہے۔

شہری علاقوں میں PM 2.5 کی سطح میں بڑا اضافہ

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ سال 2000 کے بعد توانائی کے شعبے سے سلفر ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 1990 کی دہائی کے آخر میں اس شعبے سے SO₂ کا سالانہ اخراج ایک ملین ٹن سے بھی کم تھا، لیکن 2020 کے آس پاس یہ بڑھ کر تقریباً 70 سے 80 لاکھ ٹن سالانہ تک پہنچ گیا۔ اس کے نتیجے میں توانائی کا شعبہ ملک میں سلفر آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا۔ ہندوستان میں جیسے جیسے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کی تعداد بڑھی، ویسے ویسے آلودگی کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ سال 2000 میں کئی شہری علاقوں میں PM 2.5 کی سطح 30 سے 40 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے کم تھی، لیکن 2020 تک شمالی اور مشرقی ہندوستان کے بڑے حصوں میں یہ سطح 60 سے 80 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے بھی تجاوز کرگئی۔ یہ سطح قومی معیار اور عالمی ادارۂ صحت کی مقرر کردہ رہنما ہدایات سے کہیں زیادہ ہے۔

صاف ایندھن کی رسائی بڑھی تو گھریلو آلودگی کم ہوئی

اس پوری صورتحال میں ترقی کا ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ اقتصادی ترقی اور آمدنی میں اضافے کے ساتھ لوگوں کی صاف کھانا پکانے والے ایندھن اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ سال 2000 میں تقریباً 25 فیصد لوگوں کو صاف ایندھن اور کھانا پکانے کی بہتر سہولیات دستیاب تھیں، جو 2020 تک بڑھ کر 75 فیصد سے زیادہ ہوگئیں۔ اس تبدیلی کا اثر گھریلو فضائی آلودگی پر بھی پڑا۔ گھریلو فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات سال 2000 میں تقریباً 13 لاکھ تھیں، جو 2020 میں کم ہوکر تقریباً 10 لاکھ رہ گئیں۔

گھر کی ہوا صاف ہوئی، لیکن باہر کی آلودگی بڑھ گئی

رپورٹ کے مطابق گھروں کے اندر فضائی آلودگی کم ہونے کے باوجود بیرونی ہوا پہلے کے مقابلے میں زیادہ آلودہ ہوگئی۔ بیرونی فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات تقریباً 3 لاکھ سے بڑھ کر 10 لاکھ کے قریب پہنچ گئیں۔ یعنی گھریلو آلودگی میں کمی سے حاصل ہونے والا صحت کا فائدہ شہری اور بیرونی ماحول میں بڑھتی آلودگی کی وجہ سے بڑی حد تک ختم ہوگیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی ترقی نے کروڑوں لوگوں کو بجلی، آمدنی اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن کوئلے پر حد سے زیادہ انحصار نے فضائی آلودگی کو بھی خطرناک سطح تک پہنچا دیا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر توانائی کے شعبے کو تیزی سے صاف اور کم آلودگی والا نہیں بنایا گیا تو اقتصادی ترقی کے ساتھ آلودگی اور اس سے ہونے والی اموات کا بوجھ بھی بڑھتا رہے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read