2018 سے 2024 کے درمیان بھارت میں مینوفیکچرنگ سیکٹر میں تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ نئی نوکریوں کا اضافہ ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 50 لاکھ نوکریاں صرف کسٹم ٹیلرنگ یعنی درزی کے پیشے سے وابستہ لوگوں نے حاصل کیں، جس کا مطلب ہے کہ پیدا ہونے والی ہر تین نئی مینوفیکچرنگ نوکریوں میں سے ایک اس شعبے میں گئی۔ یہ اعداد و شمار پیریاڈک لیبر فورس سروے (PLFS) اور مردم شماری کی بنیاد پر کیے گئے تخمینوں سے سامنے آئے ہیں۔
درزی کاری کا بڑھتا ہوا کردار
’ڈیٹا فار انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق، 2018 کے بعد سے پیدا ہونے والی دو میں سے ایک نئی مینوفیکچرنگ ملازمت کسی کسٹم ٹیلر نے حاصل کی۔ وبا کے بعد اس شعبے میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا، جس کے پیچھے چند اہم عوامل کارفرما ہیں: مرمت شدہ اور حسب ضرورت لباس کی بڑھتی طلب، چھوٹے شہروں میں قابل استعمال آمدنی میں اضافہ اور مائیکرو انٹرپرائز نظام کا فروغ۔
وبا کے بعد سب سے زیادہ اضافہ
2021 کے بعد درزیوں کی ملازمتوں میں سب سے تیز اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 2024 تک اس شعبے میں 5 ملین نئی ملازمتیں شامل ہوئیں، جبکہ مینوفیکچرنگ کے دوسرے تمام شعبوں میں مجموعی طور پر 9 ملین نوکریاں پیدا ہوئیں۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت میں نوکریوں کی تشکیل کا رخ تبدیل ہو رہا ہے۔
غیر منظم معیشت میں اکثریت
رپورٹ کے مطابق: تقریباً 99 فیصد درزی غیر منظم شعبے کا حصہ ہیں۔ انہیں کسی معاہدے، سماجی تحفظ یا لیبر قانون کے تحت کوئی باضابطہ سہولت حاصل نہیں ہوتی۔ 80 فیصد درزیوں نے کبھی پیشہ ورانہ تربیت حاصل نہیں کی۔ یہ صورتحال اس پیشے کی غیر رسمی نوعیت اور پیشہ ورانہ مہارت کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
آمدنی کی صورتحال
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس شعبے میں آمدنی بہت کم ہے۔ تقریباً: 10 میں سے 8 خود روزگار درزی صرف 6000 روپے ماہانہ کماتے ہیں، جو کہ مینوفیکچرنگ کے دیگر شعبوں میں مصروف خود روزگار کارکنوں کی آمدنی کا آدھا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیلرنگ کا شعبہ بھارت میں روزگار کے ایک بڑے غیر رسمی ذریعہ کے طور پر ابھر رہا ہے، تاہم کم آمدنی، تربیت کی کمی اور سماجی تحفظ کے فقدان جیسے مسائل اس پیشے کو پائیدار بنانے کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

