نئی دہلی: جامعہ اسلامیہ سنابل، نئی دہلی کی جامع مسجد عمربن خطاب میں یومِ آزادی ہند کی مناسبت سے ابو الکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی کے جنرل سکریٹری مولانا عبداللہ سعی سنابلی کی صدارت میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کی نظامت کا فریضہ جامعہ کے مساعد عمید مولانا زبیراحمد سنابلی نے انجام دیا۔ تقریب کا آغاز محمد عدنان اخلاق احمد متعلم (ثانیہ عالیہ) کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد فرحان حسیب متعلم (اولیٰ ثانویہ) اوران کے رفقاء نے ترانۂ ہندی پیش کیا۔
اس موقع سے مرکزکے سکریٹری مولانا عبداللہ سعی سنابلی نے اپنا کلیدی خطاب پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کے آغازمیں قرآن کی آیت کریمہ ’’وَاِذْ نَجَّینَاکُمْ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ…‘‘کی روشنی میں بتایا کہ آزادی اللہ کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ وطن سے محبت ایک فطری چیز ہے، جوانبیائے کرام کے دلوں میں بھی موجود تھی۔ انہوں نے ابراہیم علیہ السلام کی دعا ’’رَبِّ اجْعَلْ ھَذَا البَلَدَ آمِنًا… ‘‘کی تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ وطن کی ترقی، سلامتی اورحفاظت کے لیے دعا کرتے رہنا چاہئے۔ وطن میں رہ کرغیراللہ سے براء ت کا اظہاراورہرحال میں توحید کو حرزِجان بنانا چاہیے۔
آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کا اہم کردار
اس موقع پروطن کے تعلق سے اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے مولانا عبداللہ سعی نے کہا کہ آزادی کے لیے جد وجہد کی ابتداء 1857 سے شروع نہیں ہوئی، بلکہ اس کی بنیاد بہت پہلے ہی ہمارے اسلاف شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اورشاہ عبد العزیز وغیرہ کے ذریعہ پڑ چکی تھی۔اس جد وجہد میں مسلمان اور بالخصوص اہلِ حدیث علماء پیش پیش تھے۔ تحریک شہیدین، تحریک خلافت، ریشمی رومال جیسی تحریکیں مسلمانوں کی قربانیوں کی گواہ ہیں۔ آزادی ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا نتیجہ ہے اوربوقت ضرورت ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وطن کے تعلق سے قربانیوں کے لیے تیاررہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کوجسمانی طورپرہی نہیں بلکہ فکری اورنظریاتی طورپربھی آزاد ہونا چاہیے۔ آزادی کا مطلب بے لگام ہونا نہیں، بلکہ آزادی کے دائرے کوقوانین اورضوابط کے تحت مقید ہونا چاہیے۔انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ شرپسند عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں اور ملکی قوانین کا احترام کریں۔
آخر میں شیخ محترم نے اپنے خطاب کو یہ کہتے ہوئے ختم کیا کہ ہمیں حالات و وقت کے تقاضوں کے مطابق ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ پروگرام میں اساتذہ ، طلبہ اور جامعہ کے دیگر ملازمین شریک نے شرکت کی اور تقریب کے اختتام پر جامعہ کے اساتذہ، طلبہ اور دیگر شرکاء کے درمیان مٹھائی تقسیم کی گئی۔
معہد عثمان بن عفان، جوگابائی میں یوم آزادی کا جشن
سنٹر کے قرآنی ادارہ معہد عثمان بن عفان لتحفیظ وتجوید القرآن الکریم ،جوگابائی میں یوم آزادی کا پروگرام منعقد ہوا، جس میں مساعد عمید معہد عثمان بن عفان لتحفیظ وتجوید القرآن الکریم جوگابائی مولانا فضل الرحمن ندوی نے صدارت کے فرائض انجام دیے۔ نظامت کے فرائض قاری ذہیب احمد بن نیازاحمد سنابلی مدرس عثمان بن عفان نے انجام دیے۔ پروگرام کا آغاز اسامہ افضل کوثرکی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ اس کے بعد محمد عمران جمال الدین انصاری، ارشیل خان انعام الرحیم اورعبدالسبحان عبداللہ نے ترانۂ ہندی پیش کیا اورعاصم محمد اشرف نے اردوزبان میں آزادی کے موضوع پرایک تقریرپیش کی۔ اس کے بعد ایک نظم پیش کی گئی۔ اس موقع پرصدرمجلس نے سب سے پہلے سب کو آزادی کی مبارک باد پیش کی پھربتایا کہ انگریزتجارت کے بہانہ ہندوستان آئے اورایسٹ انڈیا کمپنی کے بہانے سے اپنی ایک فوج بنالی۔ پورے ملک پرقابض ہوگئے، پھر پورے ملک میں بے چینی کی ایک لہردوڑگئی، آزادی کی تڑپ میں سب نے قربانیاں دیں۔ نتیجتاً 15 اگست 1947 کوہندوستان آزاد ہوا اورایک جمہوری ملک بنا۔ پھراس کے بعد آپ نے مختصر اً آزادی ہند کے لیے جدوجہد اورکوششوں میں آنے والی پریشانیوں کا ذکرکیا اوراس میں پیش پیش رہنے والی شخصیات کا تذکرہ کیا اورکہا کہ ملک کے تئیں آج ہماری کیا ذمہ داری ہے؟ اس پرغور کریں! آخر میں ناظم اجلاس مشرف نادی الطلبہ معہد عثمان بن عفان لتحفیظ وتجوید القرآن الکریم، جوگابائی قاری ذہیب احمد بن نیاز احمد سنابلی نے کلمۂ تشکر پیش کیا۔ اس کے بعد طلبہ کے مابین مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اورپروگرام بحسن وخوبی اختتام پذیرہوا۔
معہد علی بن ابی طالب میں میں تقریب کا انعقاد
جامعہ اسلامیہ سنابل کی شاخ معہد علی بن ابی طالب، گولہ گنج، لکھنؤ میں مؤرخہ 14 اگست 2025 بروز جمعرات یوم آزادی کی مناسبت سے ایک تقریب منعقد ہوئی۔ جس کی ابتداء عبداللہ حمود متعلم شعبۂ تحفیظ کی تلاوت قرآن کریم سے ہوئی۔ بعدہـ حمزہ وقار وقار احمد متعلم ثانیہ متوسطہ نے اپنے رفقاء عادل شبیرشبیراحمد متعلم ثانیہ متوسطہ، عطاء اللہ اعجازاحمد متعلم اولیٰ متوسطہ اورحمدان رسول رسول احمد متعلم اولیٰ متوسطہ کے ساتھ مل کرترانۂ ہندی پیش کیا۔ اس موقع پر شیخ حمود اقبال سنابلی، استاذ معہد علی بن ابی طالب نے یوم آزادی پرایک پُرمغزاورخصوصی خطاب کیا، جس میں انہوں نے آزادی کی اہمیت سے گفتگو کا آغاز کیا اوراپنے خطاب میں آزادی کی قربانیوں پرمبنی تقریباً 207 سالہ تاریخ کے اہم گوشوں پرروشنی ڈالی۔ خصوصاً تحریک شہیدین، تحریک ریشمی رومال، علماء صادق پوراورعموماً تمام اہل وطن کی ملک کیلئے دی جانے والی بے مثال اورعظیم قربانیوں کا اختصارکے ساتھ ذکرکیا۔ خطاب کے اخیر میں وطن عزیز کی سا لمیت اور بقاء کی دعاء کی۔ شیخ سلطان احمد سنابلی نے بحسن و خوبی نظامت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا علان کیا۔
معہد عمر بن خطاب میں بھی تقریب کا اہتمام
سنٹر کے قرآنی ادارہ معہدعمربن خطاب، قلعہ روڈ، علی گڑھ میں مؤرخہ 14؍اگست 2025 بروز جمعرات یوم آزادی کی مناسبت سے ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس موقع پربچوں نے حب الوطنی کے نغمے، نظمیں اورتقریریں پیش کیں۔ معہد کے مساعد عمید قاری عبدالمبین نے بچوں کوبڑے پیارسے مخاطب کرتے ہوئے کہا: پیار ے بچو! آج ہم سب یہاں یوم آزادی کے موقع پرجمع ہوئے ہیں، لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آزادی کیا ہے اوریوم جمہوریہ کیوںمنایا جاتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ: یوم آزادی اس دن کوکہا جاتا ہے جب ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا اور یوم جمہوریہ اس دن کوکہتے ہیں جب ہمارا آئین نافذ ہوا اور ایک مکمل جمہوری ملک بنا۔ ان دونوں دنوں کی بنیاد لاکھوں شہیدوں کی قربانی ہے اورقربانیوں میں مسلمانوں کا کردار بہت عظیم ہے۔ پروگرام کا اختتام اس دعا سے کیا گیا اے اللہ ہمارے ملک کو امن، خوشحالی اورقومی یکجہتی عطا فرما اورہمیں اس کی حفاظت اورخدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔
عائشہ صدیقہ شریعت کالج میں طالبات نے منایا جشن
سنٹر کے اعلیٰ تعلیمی ادارہ ادارہ جامعہ اسلامیہ سنابل کی شاخ اقامتی نسواں تعلیمی ادارہ عائشہ صدیقہ شریعت کالج، جوگابائی، نئی دہلی میں یوم آزادی کا پروگرام جوش وجذبہ کے ساتھ پیش کیا۔ پروگرام کی صدارت کلیہ کی سینئر معلمہ فرح قادری نے کی۔ پروگرام کی ابتداء ثالثہ متوسطہ کی طالبہ رمشا حنیف کی تلاوت قرآن کریم سے ہوئی۔ بعدہٗ منتشا برکت اللہ نے حمد باری تعالیٰ پیش کی۔ اس کے بعد فضیلت اول کی رفیعہ مرجان اوران کی ساتھی طالبات نے ’’ترانۂ ہند‘‘ (سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ) بڑے ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ پھر بالترتیب تاجبین آرا اور رشا امیربنت امیرحمزہ نے آزادی کے ترانے پڑھے۔ مسعودہ بنت کلیم نے انگریزی میں تقریرپیش کی، جس میں انہوں نے جنگ آزادی اوراس میں دی گئی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے آزادی کی نعمت پرخوشی کا اظہارکیا۔ ماریہ ضیاء الرحمن، شائستہ ولی احمد، اقراء افتخار، مائشہ عبدالسلام اوران کی ساتھی طالبات، نائلہ افضل، تسرین شمیم، منتشا یونس اورامشاء نازنے آزادی اورحب الوطنی سے متعلق ترانے اورنظمیں پیش کیں، جس پرسامعات نے جوش اورخوشی کا اظہارکیا۔ فرح قادری نے اپنے صدارتی خطاب میں طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ طالبات محنت اورجدوجہد کریں اپنی پڑھائی پرتوجہ دیں۔ دوسروں کو عزت دیں، ہمیشہ ضرورت مندوں کی مد د کریں، سچ کو اپنائیں، اصول وتہذیب اوراچھے اخلاق اپنائیں، بہترین شہری اورہندوستانی ہونے کا فرض ادا کریں۔ یہی آزادی کا مطلب اور پیغام آزادی ہے۔ آخرمیں نائب پرنسپل دانستہ رفیق محمدی نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں اتحاد اورمل جل کررہنے اورمل جل کرکام کرنے کی تلقین کی۔ اپنی ذمہ داری اورڈیوٹی کوسمجھنے اوراس کوادا کرنے کوکہا اوراس بات پرزوردیا کہ بچوں کا پیغام یوم آزادی یہی ہے کہ گھرکا ہرفرد خود کواہم سمجھے اوراپنے گھراورملک کی ترقی میں اپنی ذمہ داری محبت سے ادا کرے اوراپنے گھراورملک کو مضبوطی دے۔ پروگرام میں نظامت کے فرائض عریشہ عتیق احمد نے انجام دیے اورملک کی آزادی کی سلامتی کے لیے دعا کے ساتھ یہ پروگرام ختم ہوا اورطالبات میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔
خدیجہ الکبریٰ گرلز پبلک اسکول میں یوم آزادی تقریب
سنٹر کے نسواں تعلیمی ادارہ خدیجہ الکبری گرلزپبلک اسکول، جوگابائی میں بھی یوم آزادی کی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں اسکو ل نے 14 اگست کو 79 واں یوم آزادی بڑے جوش وخروش کے ساتھ منایا۔ تمام کلاسوں کے طلباء نے حب الوطنی اورتخلیقی صلاحیتوں کے جذبے کوظاہرکرنے والی مختلف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تقریبات میں کلے ماڈلنگ، سلاد سازی، سلوگن رائٹنگ اورتقریری مقابلہ شامل تھا، جس سے طلبا کومنفرد اندازمیں قوم سے اپنی محبت کا اظہارکرنے کی اجازت دی گئی۔ طلباء کی طرف سے کلاس رومز کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا، جس نے کیمپس میں تہوارکی دلکشی کا اضافہ کیا۔ خوشی اوریکجہتی پھیلاتے ہوئے سب میں مٹھائیاں تقسم کی گئیں۔ اس تقریب نے نہ صرف حب الوطنی کا جوش پیدا کیا بلکہ ٹیم ورک، تخلیقی صلاحیتوں اورملک کے شاندارورثے کے احترام کی حوصلہ افزائی کی۔ تیسری، چوتھی اورپانچویں جماعت میں کلے ماڈلنگ، چھٹی، ساتویں اورآٹھویں جماعت میں سلاد سازی، نویں اوردسویں جماعت میں سلوگن رائٹنگ، گیارہویں میں تقریری مقابلہ ہوا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



