Bharat Express DD Free Dish

IIT Bombay Student Sahil Wakode Case: سسٹم میں تبدیلی ضروری، ساحل کی موت کے بعد آئی آئی ٹی ممبئی کے طلبہ کا احتجاج، تین ماہ سے ہراساں کرنے کا الزام

ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران اور آئی آئی ٹی کے دیگر متعلقہ عہدیداروں کے خلاف بھی شکایت کی ہے۔ ایسے میں تحقیقات کے دوران یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ساحل کی شکایات کے بارے میں ادارے کے افسران کو کوئی معلومات تھی یا نہیں اور اگر تھی تو اس پر کیا کارروائی کی گئی۔فی الحال معاملے کی تحقیقات کرائم برانچ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

نئی دہلی : آئی آئی ٹی ممبئی میں دوسرے سال کے طالب علم ساحل واکوڑے کی موت کے بعد شروع ہونے والی طلبہ تحریک پر طلبہ نمائندوں نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاج کا مقصد کسی بھی طرح کی تعلیمی بے ضابطگی یا نقل کو درست قرار دینا نہیں ہے۔ طلبہ کے مطابق یہ احتجاج ایک افسوس ناک واقعے کے بعد ادارے کے نظام اور انتظامی طریقہ کار پر سنجیدگی سے غور کرنے اور ضروری اصلاحات کا مطالبہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ طلبہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی تشویش اور تجاویز انتظامیہ کے سامنے رکھی ہیں اور ادارے نے ان پر کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

ساحل کی موت کے بعد جاری کیا گیا بیان

آئی آئی ٹی ممبئی کے طلبہ نمائندوں نے 21 ستمبر کو جاری اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ 18 ستمبر کو محکمہ توانائی سائنس وانجینئرنگ کے 20 سالہ طالب علم ساحل واکوڑے کی موت انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے۔طلبہ نے کہا کہ اس واقعے نے انہیں ادارے کے اندر موجود طریقہ کار اور انتظامی نظام پر دوبارہ غور کرنے کے لیے مجبور کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی طرح کی نقل یا تعلیمی بدعنوانی کی حمایت نہیں کرتے۔

تین ماہ سے ہراساں کرنے کا الزام

ساحل کے والد نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کے ساتھ گزشتہ تین ماہ سے مبینہ طور پر ذات سے متعلق توہین آمیز زبان استعمال کی جا رہی تھی۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ ساحل کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ان الزامات کے سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ اب کرائم برانچ شکایت میں عائد الزامات، ساحل اور متعلقہ استاد کے درمیان ہونے والی گفتگو، ادارے سے متعلق ریکارڈ اور معاملے سے جڑے دیگر حقائق کی جانچ کرے گی۔

آئی آئی ٹی کے افسران کا کردار بھی جانچ کے دائرے میں

ساحل کے والد نے صرف استاد کے خلاف ہی نہیں بلکہ فیکلٹی کے سینئر افسران اور آئی آئی ٹی کے دیگر متعلقہ عہدیداروں کے خلاف بھی شکایت کی ہے۔ ایسے میں تحقیقات کے دوران یہ بھی دیکھا جائے گا کہ ساحل کی شکایات کے بارے میں ادارے کے افسران کو کوئی معلومات تھی یا نہیں اور اگر تھی تو اس پر کیا کارروائی کی گئی۔فی الحال معاملے کی تحقیقات کرائم برانچ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ تحقیقات میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔ والد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تصدیق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہو سکے گی۔

احتجاج کا مقصد کیا تھا؟

طلبہ نمائندوں کے مطابق تحریک کا مقصد تعلیمی بے ضابطگیوں کو جائز قرار دینا نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک اجتماعی کوشش تھی، جس کے ذریعے طویل عرصے سے موجود نظام سے متعلق مسائل سامنے لانے اور ایسی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا، تاکہ مستقبل میں کسی طالب علم کو اس طرح کے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔طلبہ کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں انہوں نے اپنے مطالبات کی ایک تفصیلی دستاویز تیار کی اور اسے باضابطہ طور پر ادارے کے ڈائریکٹر کے حوالے کیا۔

ڈائریکٹر نے مطالبات قبول کیے

طلبہ نمائندوں نے بتایا کہ ڈائریکٹر نے طلبہ کے مطالبات کو قبول کرتے ہوئے ان پر دستخط کیے اور مقررہ مدت کے اندر ان پر عمل درآمد کی سمت میں کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔انہوں نے بتایا کہ طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان ایک اوپن ہاؤس میٹنگ بھی منعقد کی گئی، جس میں طلبہ کو براہ راست اپنی بات رکھنے کا موقع ملا۔ اس دوران طلبہ نے مختلف مسائل پر سوالات اٹھائے اور اپنی تشویش انتظامیہ کے سامنے رکھی۔

طلبہ کے سوالات کا دیا گیا جواب

نمائندوں کے مطابق ڈائریکٹر نے طلبہ کی جانب سے اٹھائے گئے تمام مسائل اور سوالات پر تفصیلی جواب دیا۔ طلبہ نمائندوں نے انتظامیہ کی اس پہل کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کے اندر سامنے آنے والے مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کی سمت میں یہ ایک مثبت قدم ہے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ بات چیت کا یہ عمل آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔

پروفیسر سوریا نارائن ڈولا پر بھی وضاحت

طلبہ نے پروفیسر سوریا نارائن ڈولا کے حوالے سے بھی اپنا موقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے کبھی بھی پروفیسرکو قصوروار قرار دینے یا تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ طلبہ نمائندوں نے کہا کہ وہ پروفیسر ڈولا کو اپنے تدریسی برادری کا حصہ مانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تحقیقات غیر جانب دار اور آزادانہ طریقے سے مکمل ہوں۔

انتظامی ذمہ داریوں سے ہٹانے کا مطالبہ

طلبہ نے بتایا کہ ان کا مطالبہ صرف اتنا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے تک پروفیسر ڈولا کو ڈین آف ایڈمنسٹریٹو افیئرز کے انتظامی عہدے سے عارضی طورپرالگ کیا جائے۔ ان کے مطابق اس سے تحقیقات کی غیرجانب داری اور آزادی یقینی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔طلبہ نے کہا کہ حتمی نتیجہ اوراس کے بعد کی کارروائی مقررہ تحقیقاتی طریقہ کار کے مطابق ہی ہونی چاہیے۔

جواب دہی اور اصلاحات کا مطالبہ جاری رہے گا

طلبہ نمائندوں نے کہا کہ وہ آئندہ بھی جواب دہی، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کا مطالبہ اٹھاتے رہیں گے۔ ساتھ ہی وہ ادارے کے ساتھ مل کر ایک محفوظ، ذمہ دار اور طلبہ کے لیے زیادہ معاون تعلیمی ماحول بنانے کی سمت میں کام کریں گے۔ اپنے بیان کے آخرمیں طلبہ نمائندوں نے کہا کہ آئی آئی ٹی ممبئی کے طلبہ متحد ہیں اور طلبہ کے مفادات سے متعلق مسائل پر ان کی آواز طلبہ کے درمیان سے ہی اٹھنی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read