Bharat Express DD Free Dish

Gautam Adani: اڈانی گروپ کس طرح بھارت کو AI کے دور کے لیے تیار کر رہا ہے؟ گوتم اڈانی نے بتایا مستقبل کا ویژن

گوتم اڈانی نے کہا کہ AI اکانومی کی پہلی اور سب سے اہم پرت “پاور لیئر” ہے، کیونکہ سستی اور قابلِ اعتماد بجلی کے بغیر پروسیسنگ، نیٹ ورکنگ اور ڈیٹا انفراسٹرکچر ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ توانائی اور انٹیلی جنس اب قومی ترجیحات بن چکی ہیں

نئی دہلی :اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے دور میں بھارت کی تیاری اور مستقبل کے بارے میں اپنا جامع ویژن پیش کیا ہے۔ نئی دہلی میں منعقدہ CII Annual Business Summit 2026 کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنے والی صدی میں وہی ممالک عالمی قیادت کریں گے جو توانائی، کمپیوٹنگ اور ٹیکنالوجی پر مضبوط کنٹرول قائم کریں گے۔گوتم اڈانی نے کہا، “جو ملک اپنی توانائی پر قابو رکھے گا، وہی اپنے صنعتی مستقبل کو آگے بڑھائے گا۔ جو ملک کمپیوٹنگ اور ٹیکنالوجی پر گرفت رکھے گا، وہی انٹیلی جنس اور AI کے مستقبل کو سمت دے گا، اور جو ملک ان دونوں پر مہارت حاصل کرے گا، وہی آنے والی صدی کی شکل طے کرے گا۔” انہوں نے اسے “نئی طاقت کی جیومیٹری” قرار دیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ AI صرف سافٹ ویئر یا الگورتھم کا نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک مضبوط فزیکل انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔ گوتم اڈانی کے مطابق بغیر توانائی کے AI ممکن نہیں، کیونکہ کمپیوٹنگ کے لیے بجلی ضروری ہے اور بغیر کمپیوٹنگ کے ڈیٹا سینٹرز نہیں چل سکتے۔ اسی لیے اڈانی گروپ ان بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر پر توجہ دے رہا ہے جو بھارت کے ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد بنیں گے۔انہوں نے بتایا کہ گجرات کے کھاوڑا میں دنیا کے سب سے بڑے سنگل سائٹ رینیوایبل انرجی پلانٹ پر کام جاری ہے۔ یہ 30 گیگاواٹ کا منصوبہ ہے، جس کا تقریباً 35 فیصد حصہ پہلے ہی فعال کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف بھارت کے توانائی نظام کو مضبوط کرے گا بلکہ AI اور ڈیجیٹل اکانومی کے لیے بھی بنیادی سہولت فراہم کرے گا۔

گوتم اڈانی نے کہا کہ AI اکانومی کی پہلی اور سب سے اہم پرت “پاور لیئر” ہے، کیونکہ سستی اور قابلِ اعتماد بجلی کے بغیر پروسیسنگ، نیٹ ورکنگ اور ڈیٹا انفراسٹرکچر ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ توانائی اور انٹیلی جنس اب قومی ترجیحات بن چکی ہیں اور جو ممالک امن کے وقت اپنی صلاحیتیں نہیں بناتے، انہیں بحران کے وقت بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔انہوں نے بھارت کی معاشی ترقی اور ڈیجیٹل کامیابیوں پر بھی روشنی ڈالی۔ UPI کی مثال دیتے ہوئے گوتم اڈانی نے کہا کہ یہ صرف ایک ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم نہیں بلکہ اس نے عام بھارتی شہریوں کے ہاتھ میں “اعتماد” دیا ہے۔ ان کے مطابق اس پلیٹ فارم نے چھوٹے دکانداروں اور ریڑھی والوں کو بھی ڈیجیٹل دنیا میں نمایاں شناخت دی ہے اور موبائل فون کو صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک معاشی آلہ بنا دیا ہے۔

گوتم اڈانی نے مزید کہا کہ بھارت کی ترقی کا راستہ امریکہ یا چین جیسا نہیں ہوگا، کیونکہ بھارت کی اپنی الگ طاقت اور وسیع مقامی طلب موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد بھارت کو 2 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے میں 67 سال لگے، لیکن اگلے 2 ٹریلین ڈالر صرف 12 برسوں میں شامل ہوئے۔ ان کے مطابق بھارت اب معمولی ترقی کے مرحلے سے نکل کر “کمپاؤنڈنگ ایکسیلیریشن” کے دور میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ترقی کی رفتار مسلسل تیز ہوتی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read