Bharat Express DD Free Dish

More trouble for AAP:ستیندر جین کی مشکلات میں اضافہ، وزارت داخلہ نے صدر سے گرفتاری کی اجازت مانگی

ای ڈی نے عدالت میں جین کی ضمانت کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اگر انہیں ضمانت دی جاتی ہے تو وہ کیس سے متعلق گواہوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

Satyendra Jain

عام آدمی پارٹی لیڈر اور دہلی حکومت کے سابق وزیر ستیندر جین کی مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے جمعہ کو ستیندر جین کے خلاف انڈین سول سیکورٹی کوڈ، 2023 کی دفعہ 218 کے تحت عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے صدر سے منظوری مانگی ہے ۔ ذرائع کے مطابق، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے موصولہ مواد کی بنیاد پر اس معاملے میں ستیندر جین کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کافی ثبوت ملے ہیں۔

گرفتاری 2022 میں ہوئی تھی۔

ستیندر جین کو ای ڈی نے 30 مئی 2022 کو منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ ستیندر جین پر 2015-2016 میں فرضی کمپنیوں کے ذریعے مبینہ طور پر 16.39 کروڑ روپے کی لانڈرنگ کا الزام ہے۔ اس کے بعد انہیں گرفتار کر کے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔ 18 اکتوبر کو دہلی کی ایک عدالت نے ستیندر جین کو ضمانت دے دی۔ انہیں ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے “مقدمہ میں تاخیر” اور “طویل قید” کا حوالہ دیا تھا۔

طبی بنیادوں پر دی گئی عبوری ضمانت

دوسری طرف ای ڈی نے عدالت میں جین کی ضمانت کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اگر انہیں ضمانت دی جاتی ہے تو وہ کیس سے متعلق گواہوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈروں نے عدالت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور اسے سچائی کی جیت اور بی جے پی کی سازش کی شکست قرار دیا۔ تاہم، اس سے قبل 26 مئی 2023 کو، ستیندر جین کو طبی بنیادوں پر عبوری ضمانت دی گئی تھی کیونکہ ان کی ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن ہوا تھا۔

ستیندر جین نے حال ہی میں ختم ہونے والے دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔ پارٹی نے انہیں شکور بستی سیٹ سے میدان میں اتارا تھا، لیکن انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار کرنیل سنگھ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق کرنیل سنگھ کو کل 56,869 ووٹ ملے جب کہ ستیندر جین کو صرف 35,871 ووٹ ملے۔ وہیں کانگریس امیدوار ستیش کمار لوتھرا کو صرف 5,784 ووٹ ملے۔

بھارت ایکسپریس –



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read