پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں شہری چیلنجز پر بات کرتے ہوئے چڈھا نے کہا کہ ٹریفک جام نے میٹرو شہروں کو ’بڑی پارکنگ لاٹس‘ میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں لوگ اپنی منزل تک پہنچنے کے بجائے گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہتے ہیں۔ انہوں نے دہلی، کولکاتا، بنگلورو، ممبئی، پونے اور چنئی جیسے شہروں کے اہم جام والے علاقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں رنگ روڈ، آشرم چوک، دھولا کنواں اور این ایچ-8 دہلی-گروگرام روٹ پر شدید ٹریفک جام رہتا ہے۔ اسی طرح کولکاتا میں اے جے سی بوس روڈ اور چورنگی روڈ، بنگلورو میں سلک بورڈ جنکشن اور آؤٹر رنگ روڈ، جبکہ ممبئی میں اندھیری، باندرہ اور فورٹ علاقے مسلسل ٹریفک جام کا شکار رہتے ہیں۔
’ٹریفک جام صرف پریشانی نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی بحران ‘
چڈھا نے کہا، ’’جب آپ ان مقامات پر پھنس جاتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ سڑک پر نہیں بلکہ کسی لمبی پارکنگ میں کھڑے ہیں۔ لوگ اب ٹریفک میں پھنس کر اپنی گاڑیوں سے ہی ورچوئل میٹنگز کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔‘‘انہوں نے ٹریفک جام کو صرف پریشانی نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنگلورو میں ایک شخص سالانہ اوسطاً 168 گھنٹے ٹریفک میں پھنس کر گزارتا ہے۔ اس کے بعد پونے میں 152 گھنٹے، ممبئی میں 126 گھنٹے، کولکاتا میں تقریباً 110 گھنٹے، دہلی میں تقریباً 104 گھنٹے اور چنئی میں تقریباً 100 گھنٹے وقت ضائع ہوتا ہے۔
اوسطاً ایک شخص سال میں 100 سے 168 گھنٹے ٹریفک میں پھنس جاتا ہے
انہوں نے کہا، ’’اوسطاً ایک شخص سال میں 100 سے 168 گھنٹے ٹریفک میں پھنس جاتا ہے۔ یہ صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ ملک کی پیداواری صلاحیت کا نقصان ہے۔‘‘ چڈھا نے خبردار کیا کہ ہر سال تقریباً 2.5 کروڑ نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے، کیونکہ ان میں زیادہ تر نجی گاڑیاں شامل ہیں۔
جامع حکمت عملی تیار کرنے پر زور
انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے، جس میں پبلک ٹرانسپورٹ کو مضبوط بنانا، اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ نافذ کرنا اور سائنسی پارکنگ پالیسی تیار کرنا شامل ہو۔ آخر میں انہوں نے کہا، ’’اگر ہمارے شہر ٹریفک جام میں ہی پھنسے رہیں گے تو ملک کی معیشت تیز رفتار حاصل نہیں کر پائے گی۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




