Bharat Express DD Free Dish

Haryana assures protection of Kashmiri students: ہریانہ حکومت نے پہلگام حملے کے بعد ہراساں کیے جا رہے کشمیری طلباء کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی، جاری کیے احکامات

جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے دعویٰ کیا کہ ہریانہ کے امبالہ ضلع میں کئی کشمیری طلباء کو حملہ آوروں نے ہراساں کیا۔

تصویر: اے این آئی

جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے دعویٰ کیا کہ ہریانہ کے امبالہ ضلع میں کئی کشمیری طلباء کو حملہ آوروں نے ہراساں کیا۔ ہریانہ حکومت نے جواب میں ان کی حفاظت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ واضح رہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد 100 سے زائد کشمیری طلباء پنجاب سے اپنی ریاست واپس لوٹ چکے ہیں۔ پنجاب اسٹیٹ ویمن کمیشن نے حالیہ دہشت گردانہ حملے کے بعد ایک طالبہ کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے الزام کے بعد کشمیری شہریوں کے خلاف نفرت میں اچانک اضافے کا نوٹس لیا ہے۔

ہریانہ حکومت نے جاری کیے طلبا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے احکامات

ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے یہ معاملہ متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا ہے اور فوری کارروائی کے لیے وزیر اعلیٰ ہریانہ کے مشیر سے بھی بات کی گئی ہے۔ ناصر نے بتایا ’’ہمیں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نایاب سنگھ سینی نے چیف سکریٹری، پولیس کے ڈائریکٹر جنرل اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں تاکہ کسی بھی تشویش کو فوری طور پر دور کیا جا سکے اور کشمیری طلباء کو تحفظ کا احساس فراہم کیا جا سکے۔‘‘ اس وقت 1,157 کشمیری طلبا ہریانہ کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

سی ایم سینی نے مزید ہدایت دی ہے کہ ریاست کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کی حفاظت، سلامتی اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے جائیں۔ ناصر نے بتایا کہ ’’ہمیں اعلیٰ سطح پر یقین دہانی ملی ہے کہ ہریانہ حکومت صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے متاثرہ طلباء کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ طالب علم محفوظ محسوس کریں اور بغیر کسی خوف و ہراس کے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read