Bharat Express DD Free Dish

GST Kitty: مارچ میں جی ایس ٹی کی وصولی 9.9 فیصد بڑھ کر 1,96,141 کروڑ روپے ہوگئی، اب تک کی دوسری سب سے زیادہ وصولی

مارچ میں جی ایس ٹی کی وصولی 9.9 فیصد بڑھ کر 1,96,141 کروڑ روپے ہوگئی، جو اب تک کی دوسری سب سے زیادہ ماہانہ وصولی ہے۔

مارچ میں جی ایس ٹی کی وصولی 9.9 فیصد بڑھ کر 1,96,141 کروڑ روپے ہوگئی، جو اب تک کی دوسری سب سے زیادہ ماہانہ وصولی ہے۔ اس حوالے سے درآمدات سے حاصل ہونے والی جمع آوری بہت تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔ مارچ میں، فروری میں ہونے والے لین دین کی بنیاد پر گھریلو لین دین سے وصولی 8.8 فیصد بڑھ کر 1.5 لاکھ روپے سے تھوڑی کم رہی، جب کہ درآمدات سے وصولی 13 فیصد سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 47,000 کروڑ روپے ہو گئے۔

2023-24 کے دوران 168,187 کروڑ روپے کے مقابلے میں گزشتہ مالی سال کے دوران اوسط ماہانہ وصولیوں کا تخمینہ 1,84,087 کروڑ روپے لگایا گیا تھا۔ پورے سال کے لیے حکومت نے 9.5 فیصد کے اضافے سے 22 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہونے کا تخمینہ لگایا۔ ریفنڈز میں بھی 41% اضافہ ہوا، جس میں مارچ میں 19,615 کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا، وہیں درآمد سے متعلقہ ریفنڈز میں 202% اضافہ ہوا ہے۔

ای وائی انڈیا کے ٹیکس پارٹنر سوربھ اگروال نے کہا ’’جی ایس ٹی کی وصولیوں میں ہندوستان کی مسلسل ترقی ایک لچکدار گھریلو معیشت کی نشاندہی کرتی ہے، جو بظاہر عالمی اقتصادی چیلنجوں سے محفوظ ہے اور جس کے پیچھے صارفین کے مضبوط اخراجات کا اہم کردار ہے۔ تاہم مارچ 2024 کے مقابلے درآمدی جی ایس ٹی میں 13.5 فیصد اضافہ پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے درآمدات میں نمایاں اضافہ کو نمایاں کرتا ہے۔ مزید یہ کہ برآمدات میں سال بہ سال 25.7 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت کے مینوفیکچرنگ اقدامات مثبت نتائج دکھا رہے ہیں۔‘‘

تاہم ٹیکس ماہرین نے کہا کہ وصولیوں میں سست ترقی حکومت کی نگرانی میں اضافہ کا باعث بن سکتی ہے۔ پی ڈبلیو سی کے پارٹر پرتیک جین نے کہا ’’جی ایس ٹی آڈٹ اور جانچ میں مزید سختی کی توقع کی جا سکتی ہے تاکہ لیکیجز کو ختم کیا جا سکے۔ کھپت میں سست روی بھی ایک ایسا شعبہ ہے، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘‘ پچھلے مالی سال کے دوران ہریانہ (16 فیصد اضافہ)، دہلی (15.9 فیصد اضافہ)، مہاراشٹر (12.4 فیصد اضافہ) اور بہار (12.1 فیصد اضافہ) سب سے بہتر کارکردگی کرنے والی ریاستیں رہیں۔ جب کہ اروناچل اور ناگالینڈ میں بالترتیب 8% اور 4% کی کمی دیکھی گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read