وزیراعظم نریندر مودی برکس سمٹ میں حصہ لینے کیلئے جب برازیل پہنچے تو برازیل کے صدر لولا نے ان کا زبردست انداز میں استقبال کیا۔ پی ایم مودی نے صدر لولا کی طرف سے والہانہ استقبال کی جم کر تعریف کی ۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کچھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ریو میں صدر لولا کی میزبانی میں برکس سمٹ کے اجلاس سے خوشی ہوئی ۔برکس ایک مضبوط طاقت ہے ہماری عالمی معیشت اور ترقی دونوں کیلئے ایک مضبوط فورس ہے۔
Grateful to President Lula for hosting this year’s BRICS Summit in Rio de Janeiro.
BRICS remains a powerful force for economic cooperation and global good.@LulaOficial pic.twitter.com/4suQE0BIWj
— Narendra Modi (@narendramodi) July 6, 2025
وہیں دوسری جانب پی ایم مودی نے برکس اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کئی اہم مسائل کی طرف سربراہان کی توجہ مبذول کرائی۔وزیراعظم نے 17ویں برکس سربراہی اجلاس کے شاندار انعقاد پر برازیل کے صدر لولا کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر لولا کی متحرک قیادت نے برکس تعاون کو نئی توانائی اور جوش عطا کیا ہے، جو کہ “ایک ڈبل ایکسپریسو شاٹ” کی مانند ہے۔ انہوں نے صدر لولا کے وژن اور عزم کی تعریف کی اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو کو برکس خاندان میں شامل ہونے پر مبارکباد دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی جنوب کو اکثر دوہرے معیار کا سامنا رہا ہے، چاہے وہ ترقی، وسائل کی تقسیم یا سیکیورٹی کے معاملات ہوں۔ عالمی جنوب کے مفادات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی، اور موسمیاتی مالیات، پائیدار ترقی، اور ٹیکنالوجی تک رسائی جیسے موضوعات پر محض علامتی اقدامات کیے گئے۔انہوں نے زور دیا کہ دو تہائی انسانیت کو ابھی تک 20ویں صدی کے عالمی اداروں میں مناسب نمائندگی نہیں ملی۔ آج کی عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے والے بہت سے ممالک کو فیصلہ سازی کے عمل میں جگہ نہیں دی گئی۔ یہ صرف نمائندگی کا معاملہ نہیں، بلکہ اداروں کی ساکھ اور افادیت کا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی جنوب کے بغیر یہ ادارے ایک موبائل فون کی طرح ہیں جس میں سم کارڈ تو ہے لیکن نیٹ ورک نہیں۔ یہ ادارے 21ویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام ہیں، چاہے وہ جاری تنازعات ہوں، وبائی امراض ہوں، معاشی بحران ہوں، یا سائبر اور خلائی چیلنجز ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج دنیا کو ایک نئے کثیر القطبی اور جامع عالمی نظام کی ضرورت ہے، جس کا آغاز عالمی اداروں میں جامع اصلاحات سے ہونا چاہیے۔ ان اصلاحات کا اثر محض علامتی نہیں، بلکہ واضح ہونا چاہیے۔ گورننس ڈھانچے، ووٹنگ حقوق، اور قیادت کے عہدوں میں تبدیلی ضروری ہے۔ عالمی جنوب کے ممالک کے چیلنجز کو پالیسی سازی میں ترجیح دی جانی چاہیے۔انہوں نے برکس کی توسیع اور نئے شراکت داروں کی شمولیت کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، عالمی تجارتی تنظیم، اور کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں جیسے اداروں میں اصلاحات کے لیے اسی عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں، جہاں ٹیکنالوجی ہر ہفتے ترقی کرتی ہے، عالمی اداروں کا اسی سال بغیر اصلاحات کے چلنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اسے 20ویں صدی کی ٹائپ رائٹر پر 21ویں صدی کا سافٹ ویئر چلانے سے تعبیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ سے خودغرضی سے بالاتر ہوکر انسانیت کے مفاد میں کام کرنے کو اپنا فرض سمجھتا ہے۔ بھارت برکس ممالک کے ساتھ مل کر تمام معاملات پر تعاون اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

