مشرقی بردوان: مغربی بنگال کے ضلع مشرقی بردوان میں ان دنوں خوشی اور جوش کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ بنگال کا مشہور خوشبودار ”گووند بھوگ“ چاول ہے، جسے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے حالیہ غیر ملکی دورے کے دوران اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کو خصوصی تحفے کے طور پر پیش کیا۔ وزیر اعظم کی جانب سے عالمی سطح پر بنگال کے اس روایتی چاول کو متعارف کرانے کے بعد کسانوں، چاول تاجروں اور رائس مل صنعت سے وابستہ افراد میں زبردست خوشی پائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم مودی نے اپنی بیرون ملک مصروفیات کے دوران مختلف ریاستوں کی مشہور زرعی مصنوعات کو عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں کو تحفے میں پیش کیا۔ انہی خصوصی تحائف میں مغربی بنگال کا معروف گووند بھوگ چاول بھی شامل تھا۔ جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی، مشرقی بردوان سمیت ریاست کے کئی اضلاع میں کسانوں کے درمیان خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
گووند بھوگ چاول اپنی منفرد خوشبو، نرم ذائقے اور ثقافتی اہمیت کے باعث پورے بنگال میں نہایت مقبول سمجھا جاتا ہے۔ یہ چھوٹے دانوں والا خوشبودار چاول ہے، جسے خاص طور پر ”پائیش“ یعنی چاول کی کھیر، کھچڑی اور مذہبی رسومات میں بھوگ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بنگال کی تہذیبی اور مذہبی تقریبات میں اس چاول کو خاص مقام حاصل ہے اور اسے خوشحالی اور پاکیزگی کی علامت بھی مانا جاتا ہے۔ یہ چاول بنیادی طور پر مشرقی بردوان، ہوگلی، ندیہ اور بیر بھوم اضلاع میں کاشت کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر مشرقی بردوان کے رائنا-1، رائنا-2 اور کھنڈا گھوش بلاکس میں اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار ہوتی ہے۔ کسانوں کے مطابق اس چاول کی مانگ نہ صرف بنگال بلکہ ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سال 2017 میں گووند بھوگ چاول کو جی آئی ٹیگ بھی حاصل ہو چکا ہے، جس کے بعد اس کی شناخت اور تجارتی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا۔
بنگال رائس مل ایسوسی ایشن کے صدر عبدالمالک نے اس موقع کو کسانوں کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر گووند بھوگ چاول کو بطور تحفہ پیش کرنا مغربی بنگال کے کسانوں کی محنت اور ریاست کی زرعی روایت کا عالمی اعتراف ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف چاول کی بین الاقوامی سطح پر تشہیر ہوگی بلکہ کسانوں کو بہتر منافع حاصل ہونے کی امید بھی بڑھے گی۔
عبدالمالک نے امید ظاہر کی کہ اس پیش رفت کے بعد بیرون ممالک میں گووند بھوگ چاول کی مانگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی منڈیوں میں اس چاول کی برآمدات بڑھتی ہیں تو اس کا براہ راست فائدہ کسانوں، رائس مل صنعت اور زرعی تجارت سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کو ملے گا۔ مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی اس پہل نے انہیں نئی امید دی ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت اسی طرح مقامی اور جی آئی ٹیگ یافتہ زرعی مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کراتی رہی تو اس سے بھارتی زرعی برآمدات کو مزید فروغ ملے گا اور کسانوں کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
