نئی دہلی : ہندی ادب اور فلمی دنیا کے ممتاز شاعر و نغمہ نگار گوپال داس سکسینہ، جو “نیراج” کے نام سے دنیا بھر میں معروف ہوئے، اپنی لازوال شاعری اور دل کو چھو لینے والے نغموں کی بدولت آج بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ 4 جنوری 1925 کو اتر پردیش کے ضلع اٹاوہ کے گاؤں پوراولی میں پیدا ہونے والے نیرج کی زندگی کا آغاز شدید غربت اور مشکلات کے درمیان ہوا، لیکن انہوں نے اپنی محنت، صلاحیت اور الفاظ کے جادو سے ایسی شناخت قائم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔نیرج صرف چھ برس کے تھے ،جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد خاندان کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر آ گئی۔ معاشی تنگی کے باعث انہوں نے گنگا میں غوطے لگا کر زائرین کے پھینکے ہوئے سکے جمع کیے، گلیوں میں بیڑی اور سگریٹ فروخت کیے اور دیواروں پر فلموں کے پوسٹر بھی چسپاں کیے۔ شاید اس وقت انہوں نے کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ ایک دن انہی فلمی پوسٹروں پر ان کا نام ملک کے عظیم ترین نغمہ نگار کے طور پر نمایاں ہوگا۔انتہائی مشکلات کے باوجود انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ 1942 میں فرسٹ ڈویژن سے ہائی اسکول پاس کیا اور ملازمت کرتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کی۔ 1953 میں ہندی ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، اسی دوران ان کا پہلا شعری مجموعہ “سنگھرش” شائع ہوا، جس نے ادبی دنیا میں ان کی شناخت مضبوط کی۔
23 برس کی عمر میں انہیں ایک خوشحال خاندان کی لڑکی سے محبت ہوئی، لیکن سماجی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ محبت کامیاب نہ ہو سکی۔ محبوبہ کی رخصتی کا منظر دیکھ کر انہوں نے وہ شہرۂ آفاق نظم لکھی جس کا مصرع “کارواں گزر گیا، غبار دیکھتے رہے” آج بھی ادب اور موسیقی کی تاریخ میں امر ہے۔ اس نظم نے انہیں راتوں رات ملک بھر میں مقبول شاعر بنا دیا۔نیراج نے تدریس کے شعبے میں بھی خدمات انجام دیں۔ میرٹھ کالج میں تدریس کے بعد وہ علی گڑھ کے دھرم سماج کالج میں پروفیسر مقرر ہوئے اور علی گڑھ ہی ان کا مستقل مسکن بن گیا۔ شاعرانہ مقبولیت نے انہیں ممبئی پہنچایا، جہاں انہوں نے فلمی گیت نگاری کو نئی ادبی بلندی عطا کی۔ان کے قلم سے نکلنے والے متعدد گیت آج بھی کلاسیک کا درجہ رکھتے ہیں۔ “کارواں گزر گیا”، “لکھے جو خط تجھے”، “اے بھائی ذرا دیکھ کے چلو” اور “پھولوں کے رنگ سے” جیسے گیتوں نے انہیں فلمی دنیا کا منفرد شاعر بنا دیا۔ اداکار دیو آنند ان کے مداح تھے اور انہی کی معرفت نیراج کی ملاقات عظیم موسیقار ایس ڈی برمن سے ہوئی۔ مشہور گیت “لکھے جو خط تجھے” انہوں نے محض چھ منٹ میں تحریر کیا، جبکہ “اے بھائی ذرا دیکھ کے چلو” کے لیے انہیں فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔
1970 کی دہائی میں موسیقار جے کشن، روشن اور ایس ڈی برمن کے انتقال کے بعد ممبئی کی بدلتی فلمی فضا انہیں راس نہ آئی، چنانچہ وہ ہمیشہ کے لیے علی گڑھ واپس آ گئے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت ہند نے 1991 میں انہیں پدم شری اور 2007 میں پدم بھوشن سے نوازا، جبکہ اتر پردیش حکومت نے یش بھارتی ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا۔19 جولائی 2018 کو دہلی کے ایمس اسپتال میں گوپال داس نیراج نے آخری سانس لی۔ اپنی زندگی کی طرح انہوں نے وفات کے بعد بھی انسانیت کی خدمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنا جسد خاکی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو طبی تحقیق کے لیے عطیہ کر دیا۔ نیراج اگرچہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی شاعری، نغمے اور فکر ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آنے والی نسلوں کو محبت، انسانیت اور زندگی کا فلسفہ سکھاتے رہیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



