Bharat Express DD Free Dish

Poetry

’River of Thought-II‘ میں زندگی کو ایک بڑی اور پیچیدہ پہیلی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مصنف کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ اس پہیلی کے ٹکڑے ایک ایک کرکے اپنی جگہ پر آتے ہیں، لیکن یہ پہیلی کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ مصنف زندگی کو ایک ایسے مسلسل عمل کے طور پر دیکھتے ہیں جو وقت کے ساتھ پھیلتا، تبدیل ہوتا اور نئی شکل اختیار کرتا رہتا ہے۔

راحت اندوری کا 70 برس کی عمر میں 11 اگست 2020 کو انتقال ہوگیا۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اگلے ہی روز ان کے انتقال کی خبر سامنے آئی، جس سے ادبی اور فلمی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

23 برس کی عمر میں انہیں ایک خوشحال خاندان کی لڑکی سے محبت ہوئی، لیکن سماجی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ محبت کامیاب نہ ہو سکی۔ محبوبہ کی رخصتی کا منظر دیکھ کر انہوں نے وہ شہرۂ آفاق نظم لکھی جس کا مصرع "کارواں گزر گیا، غبار دیکھتے رہے" آج بھی ادب اور موسیقی کی تاریخ میں امر ہے۔

وہ جمعہ کی شام وسطی ممبئی کے انابھاؤ ساٹھے آڈیٹوریم میں سمشتی آرٹس اینڈ لٹریچر فیسٹیول کے دوران ’’نام دیو دھسال سمشتی ایوارڈ‘‘ حاصل کرنے کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔