Bharat Express DD Free Dish

Goldman of Bihar Prem Singh: ملک کے لیے ایک منٹ میں سب کچھ قربان کر دوں گا، بہار کے گولڈ مین نے ایسا کیوں کہا؟ پہنتے ہیں 6.3 کلو سونا

پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن کر باہر نکلتے ہیں۔ ان کے زیورات میں سب سے خاص درگا ماتا اور ہنومان جی کی شکل والے لاکٹ ہیں، جنہیں وہ اپنے دل کے بہت قریب مانتے ہیں۔اپنے ’گولڈ مین‘ والے انداز کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے اپنی بُلٹ موٹر سائیکل پر بھی تقریباً 300 سے 350 گرام سونے کی پلیٹنگ کرائی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت اس پر تقریباً 20 سے 25 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنی ’کارنیوال‘ کار کو بھی سنہری رنگ میں تبدیل کرایا ہے۔

نئی دہلی : بہار کے بھوجپور ضلع کے رہنے والے پریم سنگھ کی شناخت ان کے منفرد انداز سے ہوتی ہے۔ ہاتھوں میں بھاری بھرکم سونے کے کنگن، گلے میں سونے کی کئی موٹی زنجیریں، انگلیوں میں انگوٹھیاں اور چہرے پر بے باک مسکراہٹ، یہی انداز انہیں دوسروں سے الگ بناتا ہے۔ لوگ انہیں پیار سے ’بہار کا گولڈ مین‘ کہتے ہیں۔ حال ہی میں ’بھارت ایکسپریس‘ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں پریم سنگھ نے سونے سے اپنے شوق، زندگی کے فلسفے، سیکیورٹی کے خدشات اور ملک کے تئیں اپنی وابستگی پر کھل کر بات کی۔

17 سال پرانا شوق، بہار کے ’سُشاسن‘ سے ملی تحریک

پریم سنگھ کے مطابق انہیں سونا جمع کرنے اور پہننے کا شوق گزشتہ 17 سے 18 برس سے ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اتنا سونا پہننے کا خیال کیسے آیا تو انہوں نے بہار کی قانون و انتظامیہ کی صورت حال کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ جب بہار میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی حکومت آئی اور ’سُشاسن‘ کی سمت میں کام ہوا، سڑک، بجلی، صحت اور پولیس انتظامیہ بہتر ہوئی تو انہیں خیال آیا کہ جب دوسرے ریاستوں میں ’گولڈ مین‘ ہو سکتے ہیں تو بہار میں کیوں نہیں۔ اس کے بعد انہوں نے سونا پہننا شروع کیا اور لوگوں کی محبت ملتی گئی۔

جسم پر 6.3 کلو سونا، موٹر سائیکل بھی سنہری

پریم سنگھ کے پاس اس وقت تقریباً 6.3 کلوگرام سونا ہے، جسے وہ روزانہ پہن کر باہر نکلتے ہیں۔ ان کے زیورات میں سب سے خاص درگا ماتا اور ہنومان جی کی شکل والے لاکٹ ہیں، جنہیں وہ اپنے دل کے بہت قریب مانتے ہیں۔اپنے ’گولڈ مین‘ والے انداز کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے اپنی بُلٹ موٹر سائیکل پر بھی تقریباً 300 سے 350 گرام سونے کی پلیٹنگ کرائی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت اس پر تقریباً 20 سے 25 لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنی ’کارنیوال‘ کار کو بھی سنہری رنگ میں تبدیل کرایا ہے۔

آمدنی کا ذریعہ کیا ہے؟

اتنی بڑی تعداد میں سونا خریدنے کے لیے رقم کہاں سے آتی ہے، اس سوال پر پریم سنگھ نے بتایا کہ وہ فضول خرچی نہیں کرتے۔ ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ جدید زراعت اور سرکاری ٹھیکے داری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کھیتی باڑی اور ٹھیکے داری سے ہونے والی بچت کا ایک بڑا حصہ وہ سونے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔

’ویر کنور سنگھ کی سرزمین سے ہوں، مجھے ڈر نہیں لگتا‘

6 کلو سے زیادہ سونا پہن کر باہر نکلنے کے باوجود چوری یا سیکورٹی کے خدشے کے سوال پر پریم سنگھ نے کہا کہ وہ ویر بانکوڑا بابو ویر کنور سنگھ کی سرزمین بھوجپور سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں کسی بات کا خوف نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر انہیں ڈر لگتا تو وہ اتنا سونا پہن کر باہر ہی نہ نکلتے۔ ان کے مطابق جب پولیس انتظامیہ اور عوام کی حمایت ساتھ ہو تو خوف کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

’ملک کے لیے اپنا سونا بھی دے دوں گا‘

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ملک کی معیشت کے مفاد میں سونے کی خریداری میں احتیاط برتنے کی اپیل کے بارے میں بات کرتے ہوئے پریم سنگھ نے کہا کہ اس کے بعد سے انہوں نے نیا سونا خریدنا بند کر دیا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ملک کے لیے اپنا سونا قربان کر سکتے ہیں تو انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ بالکل دے دیں گے، اس میں بڑی بات کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ملک کے جوان سرحد پر اپنی جان قربان کر دیتے ہیں اور بھگت سنگھ جیسے جانباز ہنستے ہنستے شہید ہو گئے تو ملک کو ضرورت پڑنے پر وہ اپنا سونا کیوں نہیں دے سکتے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کا ہیرو بننے کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ اگر یہ سونا صرف خاندان کے لیے ہوتا تو وہ بینک کے لاکر میں بند رہتا، سڑکوں پر پہن کر نہیں گھومتے۔

بھوجپوری فلموں میں بھی آزما چکے ہیں قسمت

پریم سنگھ صرف سونے کے شوق کے لیے ہی مشہور نہیں ہیں، بلکہ فن کے شعبے میں بھی سرگرم ہیں۔ وہ کئی بھوجپوری فلمیں پروڈیوس کر چکے ہیں اور ان میں چھوٹے کرداروں میں نظر بھی آ چکے ہیں۔ان کے مطابق بالی ووڈ اداکار سونو سود نے بھی ان سے ویڈیو کال پر بات کی ہے اور ان کے ساتھ فلم بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ ممبئی سے کئی ٹیمیں ان پر دستاویزی فلم بھی بنا چکی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read