نئی دہلی : اننت ناگ میں ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی (DPAP) کے صدر غلام نبی آزاد نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن سے متعلق جاری تنازع پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ برسوں سے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، لیکن سیاسی جماعتوں کے پاس ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے شواہد موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق اب صورتحال مختلف ہے، کیونکہ دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے بعض فیصلوں پر اعتراضات کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔یہ بیان 27 ستمبر 2026 کو سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ بعض اقدامات اور فیصلوں پر باضابطہ اعتراضات درج کیے۔
دو الیکشن کمشنروں نے کئی بار سوال اٹھائے
غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کے سامنے متعدد مرتبہ سوال اٹھائے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کہیں کوئی غلط عمل تو نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق دونوں کمشنروں نے اپنی تشویش سے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کیا۔رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے، نئے ووٹروں کے نام شامل کرنے، فارم-6 میں تبدیلی اور ووٹر ڈیٹا کے انتظام سے متعلق معاملات شامل تھے۔آزاد نے کہا کہ اب یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جن ناموں کو ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے کے بعد انتخابات کرائے گئے، کیا ایسے انتخابات کی قانونی حیثیت پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے یا دوبارہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔
VIDEO | Anantnag: DPAP chairman Ghulam Nabi Azad on the Election Commission row, says, “For the past few years, questions have been raised and fingers have been pointed at the Election Commission regarding elections. But political parties were not getting evidence. This time, the… pic.twitter.com/4VfpLiU5KT
— Press Trust of India (@PTI_News) September 26, 2026
اپوزیشن کا مطالبہ غلط نہیں‘
ڈی پی اے پی صدر نے کہا کہ ایسی صورتحال میں اپوزیشن کی جانب سے دوبارہ انتخابات کرانے کے مطالبے کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تین رکنی الیکشن کمیشن کے دو ارکان کسی معاملے پر سوال اٹھا رہے ہیں تو ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔تاہم الیکشن کمیشن نے ان رپورٹوں کے بعد کہا ہے کہ کمشنروں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور تجاویز فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ تھے۔ کمیشن کے مطابق ایس آئی آر سمیت اس کے تمام فیصلے تینوں ارکان کی منظوری سے متفقہ طور پر لیے گئے۔
ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے پر تنازع
غلام نبی آزاد کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کو لے کر الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔’انڈین ایکسپریس‘ کی تحقیق کے مطابق سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ بعض فیصلوں اور احکامات پر باضابطہ اعتراضات درج کیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے اور شامل کرنے، نئے ووٹروں کے اندراج، فارم-6 میں تبدیلی اور انتخابی ڈیٹا کے انتظام سے متعلق معاملات شامل تھے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کے حکام نے واضح کیا ہے کہ مختلف ارکان کی جانب سے کسی معاملے پر سوال اٹھانا یا رائے دینا ادارے میں مشاورت کے معمول کے عمل کا حصہ ہے اور حتمی فیصلے متفقہ طور پر لیے گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

