نئی دہلی۔ اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی کے بیٹے کرن اڈانی نے گزشتہ تین برس کے دوران اپنے والد کو درپیش شدید دباؤ، تنقید اور عوامی توجہ کے درمیان ان کی ثابت قدمی کو یاد کرتے ہوئے ان کے کردار اور عزم کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل دور میں انہوں نے اپنے والد کو غیر یقینی صورتحال اور مسلسل جانچ پڑتال کا سامنا کرتے ہوئے دیکھا، لیکن گوتم اڈانی نے کبھی اپنے بنیادی مقصد سے توجہ نہیں ہٹائی۔
’’والد کو مسلسل دباؤ کا سامنا کرتے دیکھا‘‘
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سال غیر معمولی جانچ پڑتال اور دباؤ سے بھرے رہے۔ اس دوران انہوں نے اپنے والد کو غیر یقینی حالات، تنقید اور مسلسل عوامی توجہ کے درمیان کام کرتے ہوئے دیکھا۔ ان کے مطابق، حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ رہے ہوں، گوتم اڈانی نے اپنی توجہ ان کاموں پر مرکوز رکھی جو ان کے لیے سب سے زیادہ اہم تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے والد کی ترجیح اپنے وعدوں کو پورا کرتے رہنا اور ان ذمہ داریوں کو آگے بڑھانا تھا جو انہوں نے اپنے ذمے لی تھیں۔ بیٹے کے مطابق، یہی رویہ ان کی شخصیت کی مضبوطی اور پیشہ ورانہ عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
’’یہ صرف ثابت قدمی نہیں، کردار کی بات ہے‘‘
گوتم اڈانی کے بیٹے کرن اڈانی نے کہا کہ انہوں نے اپنے والد میں صرف مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں دیکھی بلکہ اس سے کہیں گہری خصوصیات بھی دیکھیں۔ ان کے مطابق، یقین، نظم و ضبط، مضبوط کردار اور مسلسل تعمیر و ترقی کا عزم وہ خصوصیات ہیں جو ان کے والد کو نمایاں کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ’’بلڈر‘‘ یا تعمیر کرنے والے شخص کی پہچان صرف ان عمارتوں، منصوبوں یا کاروباری ڈھانچوں سے نہیں ہوتی جو وہ قائم کرتا ہے، بلکہ اصل شناخت اس کردار سے ہوتی ہے جس کا مظاہرہ وہ اس سفر کے دوران کرتا ہے۔
’’یہی میرے والد گوتم اڈانی ہیں‘‘
اپنے جذباتی بیان کے اختتام پر انہوں نے اپنے والد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گوتم اڈانی کی اصل طاقت ان کے کردار، نظم و ضبط اور اپنے مقصد پر غیر متزلزل یقین میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ شخص ہے جسے انہوں نے گزشتہ تین برس کی آزمائشوں کے دوران قریب سے دیکھا ہے، اور یہی ان کے والد شری گوتم اڈانی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



