لکھنؤ: اتر پردیش مدرسہ بورڈ کے سابق رجسٹرار جگموہن سنگھ کے خلاف عائد الزامات ثابت نہ ہونے پر ریاستی حکومت نے ان کے خلاف شروع کی گئی محکمہ جاتی کارروائی بغیر کسی سزا کے ختم کر دی ہے۔ یہ کارروائی مدرسہ تیغیہ شریفیہ نور العلوم، شاہپور ضلع کشی نگر کے اساتذہ صابر علی انصاری اور ذاکر حسین کی مارک شیٹس کی تصدیق میں مبینہ غفلت اور سستی برتنے کے الزام کے تحت شروع کی گئی تھی۔
عہدہ اور موجودہ ذمہ داریاں
واضح رہے کہ جگموہن سنگھ اس وقت اتر پردیش محکمہ اقلیتی بہبود میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں اور مراد آباد ڈویژن میں تعینات ہیں، تاہم دفتری امور کے سلسلے میں وہ لکھنو ہیڈ آفس سے منسلک ہیں۔
جانچ اور کارروائی کی تفصیل
حکومت کی جانب سے 12 فروری 2024 کو اتر پردیش سرکاری ملازمین (انضباط و اپیل) قواعد 1999 کے قاعدہ 7 کے تحت ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں محکمہ کے ڈائریکٹر کو تحقیقاتی افسر مقرر کیا گیا، جنہوں نے اپنی جانچ مکمل کرتے ہوئے 25 ستمبر 2024 کو رپورٹ حکومت کو پیش کی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں کیا نکلا؟
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ اور دستیاب ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حکومتی سطح پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جگموہن سنگھ کے خلاف عائد کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوتا۔ اس لئے وزیر اعلیٰ کی سطح پر یہ فیصلہ لیا گیا کہ ان کے خلاف جاری محکمہ جاتی کارروائی کو فوری طور پر بغیر کسی سزا کے ختم کر دیا جائے۔
جگموہن سنگھ کا ردعمل
اس سلسلے میں جگموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ایک سازش کے تحت شکایت درج کرائی گئی تھی اور جانچ شروع کی گئی تھی، تاہم اب انہیں انصاف مل گیا ہے اور ان پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہو چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


