نوئیڈا: دہلی کے جنتر منتر پر 23 جولائی 2026 کو منعقدہ طلبہ کے احتجاج کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر قابلِ اعتراض تبصرہ کرنے کے معاملے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے روچیکا سنگھ نامی خاتون کے خلاف نوئیڈا کے ایکسپریس وے تھانے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔
شکایت میں کیا الزامات لگائے گئے؟
درج شکایت کے مطابق احتجاج کے دوران روچیکا سنگھ نے عوامی اسٹیج سے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا اور قابلِ اعتراض زبان استعمال کی۔ شکایت گزار کا کہنا ہے کہ اس بیان سے وزیر اعظم کے آئینی منصب کے وقار کو ٹھیس پہنچی۔ شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ بیان جان بوجھ کر دیا گیا، جس سے معاشرے میں نفرت اور کشیدگی پھیلنے کے ساتھ عوامی امن متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ شکایت گزار نے پولیس سے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
نوئیڈا میں درج ہوئی ایف آئی آر
اگرچہ واقعہ دہلی کے جنتر منتر کا ہے، تاہم اس سلسلے میں شکایت نوئیڈا کے ایکسپریس وے پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی ہے۔ پولیس اب اس معاملے کے قانونی اور دائرۂ اختیار (جورِسڈکشن) سے متعلق پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
ان دفعات کے تحت مقدمہ درج
پولیس نے روچیکا سنگھ کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی دفعات 352، 353(1) اور 356(1) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اس دوران احتجاج کی ویڈیوز، سوشل میڈیا پر وائرل کلپس اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کی جائے گی۔ شواہد کی تصدیق کے بعد آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وائرل ویڈیو میں دکھائی دینے والا بیان کن حالات میں دیا گیا تھا اور اس کا مکمل سیاق و سباق کیا تھا۔
دہلی حکومت کا بھی بیان سامنے آیا
اس معاملے کے درمیان دہلی حکومت نے جنتر منتر احتجاج کے حوالے سے اپنا مؤقف بھی واضح کیا ہے۔ حکومت کے مطابق احتجاج میں عام طور پر شریک افراد کے خلاف کوئی نئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ تاہم یہ رعایت ان افراد پر لاگو نہیں ہوگی جن کے خلاف فوجداری نوعیت کے سنگین الزامات ہیں یا جن کا پہلے سے مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔حکومت نے مزید کہا ہے کہ اگر احتجاج سے وابستہ کسی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے تو اس کے معاملے کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق آئندہ قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


