اتراکھنڈ کے ہریدوار سے ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ڈسٹرکٹ جیل میں 15 قیدی ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے ہیں۔ یہ معلومات قیدیوں کے ہیلتھ چیک اپ کے بعد سامنے آئیں ہیں۔ جیسے ہی یہ خبر پھیلی پوری جیل میں کہرام مچ گیا۔ جیل میں ہر طرف یہی بات زیر بحث تھی۔ ایسے میں جیل انتظامیہ کی جانب سے ایچ آئی وی کے مریضوں کو الگ بیرک میں رکھا گیا ہے۔ جیل انتظامیہ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔
ہریدوار جیل کے سینئر جیل سپرنٹنڈنٹ منوج کمار آریہ نے تصدیق کی ہے کہ قیدی ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قواعد و ضوابط کے مطابق ایچ آئی وی پازیٹو قیدیوں کے ساتھ آسان سلوک کیا جا رہا ہے۔ تاہم، یہ پہلی بار نہیں ہے۔اس سے قبل سال 2017 میں بھی ہریدوار جیل میں 16 قیدی ایچ آئی وی پازیٹیو پائے گئے تھے۔
اس پورے معاملے پر سینئر جیل سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ جب کوئی بھی نیا قیدی جیل میں آتا ہے تو سب سے پہلے دوسرے ٹیسٹ کے ساتھ اس کا ایچ آئی وی ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے۔ اس وقت جیل میں 15 ایسے قیدی ہیں جو ایچ آئی وی پازیٹیو پائے گئے ہیں۔ ان تمام قیدیوں کو الگ بیرک میں رکھا گیا ہے۔ جہاں ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے پوری احتیاط کے ساتھ علاج کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی جیل میں دیگر قیدیوں پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ اس وقت ہریدوار جیل میں کل 1100 قیدی ہیں۔
اسی طرح کا معاملہ اتر پردیش کی جیلوں میں بھی سامنے آیا تھا۔ ابھی پچھلے مہینے ہی، اتر پردیش کی مئو ڈسٹرکٹ جیل میں بند 13 قیدی ایچ آئی وی پازیٹیو پائے گئے تھے۔ جس سے انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی۔ 13 میں سے 10 قیدی بلیا جیل کے تھے۔ چونکہ کچھ تعمیراتی کام چل رہا تھا اس لیے قیدیوں کو مئو بھیج دیا گیا۔ اس معاملے کے بارے میں جیل سپرنٹنڈنٹ نے کہا تھا کہ ایچ آئی وی پازیٹو پائے جانے والے زیادہ تر قیدیوں نے دادری میلے میں ٹیٹو بنوائے تھے۔ کچھ قیدی نشے کی لت کی وجہ سے انجکشن بھی لگاتے ہیں۔ جو بنیادی وجہ ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

