Bharat Express DD Free Dish

Fake news is a threat to our democracy, says Union Minister Ashwini Vaishnaw: فرضی خبریں جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں: وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو

حکومت نے فرضی خبروں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیپ فیکس کی روک تھام کے لیے قانونی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا

اطلاعات و نشریات کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے لوک سبھا میں بتایا کہ سوشل میڈیا اور فرضی خبروں کے حوالے سے اٹھایا گیا معاملہ بہت سنگین معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فرضی خبریں ہندوستان کی جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں اور انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ، غلط معلومات اور اے آئی سے تیار کردہ ڈیپ فیکس پر سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے  اس بات کامشاہدہ کیا کہ جس طرح سے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے اس سے کچھ ایسے ماحولیاتی نظام پیدا ہوئے ہیں جو ہندوستان کے آئین کی پابندی نہیں کرنا چاہتےیا پارلیمنٹ کے نافذ کردہ قوانین کی تعمیل نہیں کرنا چاہتے ۔ انہوں نے سخت کارروائی کرنے اور سخت قوانین بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا ۔

پارلیمنٹ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب ویشنو نے بتایا کہ حال ہی میں نئے ضابطے متعارف کرائے گئے ہیں ، جن میں 36 گھنٹے کے اندر معاملے کو نمٹانےکی شق بھی شامل ہے ۔ اے آئی سے تیار کردہ ڈیپ فیکس کی شناخت اور اس پر ضروری کارروائی کرنے کے لیے ایک ضابطے کا مسودہ بھی شائع کیا گیا ہے اور اس پر تبادلۂ خیال فی الحال جاری ہے ۔ وزیر موصوف نے پارلیمانی کمیٹی کے کام کو سراہا اور قانونی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے اہم سفارشات پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ پیش کرنے پر جناب نشی کانت دوبے اور تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا ۔

وزیر موصوف نے کہا کہ فرضی خبروں اور سوشل میڈیا سے متعلق مسائل میں اظہار رائے کی آزادی اور ہماری جمہوریت کے تحفظ کے درمیان ایک نازک توازن شامل ہے اور حکومت اس توازن کے لیے پوری حساسیت کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ڈیجیٹل انڈیا پہل نے ایک بڑی تبدیلی پیدا کی ہے اور  سب تک ٹیکنالوجی کی فراہمی کی راہ ہموار کی ہے، جس کے مثبت اثرات کو تسلیم کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے بھی ہر شہری کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے ۔ ان تمام پہلوؤں کے مدنظر حکومت اداروں اور معاشروں کوبنیادفراہم کرنے والے اعتماد کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہی ہے ۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read