ہریانہ کے وزیر سماجی انصاف و اختیارات کرشن کمار بیدی کے ساتھ اس خصوصی انٹرویو میں قومی سیاست کے ساتھ ساتھ ہریانہ کے اہم سماجی اور سیاسی مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
نوجوانوں کے روزگار اور سرکاری بھرتیوں پر بات
گفتگو کا آغاز ہریانہ کے نوجوانوں کے روزگار، سرکاری بھرتیوں کی رفتار اور آئندہ دو سے تین برسوں کے روزگار کے منصوبے سے ہوا۔ ہریانہ کوشل روزگار نگم کے تحت ہونے والی معاہداتی ملازمتوں، ملازمت کے تحفظ اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق مختلف سوالات وزیر موصوف کے سامنے رکھے گئے۔
نوجوانوں میں بڑھتے نشے کے رجحان پر تشویش
انٹرویو میں نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے منشیات کے استعمال کے مسئلے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس مسئلے کو سماجی انصاف کے ساتھ ساتھ قانون و انتظام کے نقطۂ نظر سے سمجھنے کی کوشش کی گئی اور حکومت کی جانب سے اس چیلنج سے نمٹنے کے اقدامات پر وزیر موصوف کا موقف جانا گیا۔
طلبہ تحریک اور پولیس کارروائی پر سوالات
طلبہ تحریک اور پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے متعلق بھی اہم سوالات کیے گئے۔ طلبہ کے احتجاج، مبینہ سیاسی مداخلت، پولیس کارروائی اور احتجاجی تحریک میں بیرونی عناصر اور مالی معاونت کے الزامات پر وزیر سماجی انصاف سے ان کا موقف معلوم کیا گیا۔
غیر سرکاری تنظیموں اور غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ
گفتگو کے دوران ایف سی آر اے ترمیمی بل، غیر سرکاری تنظیموں کی جواب دہی اور غیر ملکی فنڈنگ میں شفافیت جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔ وزیر سے پوچھا گیا کہ غیر سرکاری تنظیموں کے کام میں شفافیت اور جواب دہی یقینی بنانے کے لیے حکومت کی پالیسی کیا ہے۔
رام مندر تنازعہ سے متعلق سیاسی الزامات
رام مندر تنازعہ سے متعلق سیاسی الزامات پر بھی وزیر موصوف سے سوالات کیے گئے۔ اس دوران ان سے اس معاملے کے سیاسی اثرات اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر جاننے کی کوشش کی گئی۔
حلقہ بندی اور جنوبی ریاستوں کے خدشات
قومی سیاست سے متعلق گفتگو میں حلقہ بندی کا مسئلہ بھی شامل رہا۔ خاص طور پر جنوبی ریاستوں کی جانب سے حلقہ بندی کے ممکنہ اثرات اور ان کے خدشات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
روزگار، نوجوان، نشہ اور سماجی انصاف رہے گفتگو کے مرکز
مجموعی طور پر اس خصوصی انٹرویو کا محور طلبہ اور نوجوانوں کے مسائل، پارلیمنٹ کی کارکردگی، مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور ہریانہ میں روزگار، منشیات کے بڑھتے رجحان اور سماجی انصاف سے متعلق اہم معاملات رہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

