بہار میں ووٹر لسٹ نظرثانی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے ،وہیں دوسری جانب عدالت میں ابھی تک مقدمہ زیرالتوا ہے۔اسی دوران اب عرضی گزاروں نے بہار میں ہوئے ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن کو لے کر سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے خلاف کئی الزامات لگائے ہیں۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (ADR) اور آر جے ڈی نے الزام لگایا ہے کہ SIR میں بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ‘بی ایل او خود ہی گنتی کے فارم پر دستخط کرتے پائے گئے، مردہ لوگوں کا فارم بھرتے ہوئے دکھایا گیا اور جنہوں نے فارم نہیں بھرے انہیں پیغام دیا گیا کہ ان کے فارم مکمل ہو گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے اس دعوے کی مخالفت کرتے ہوئے کہ اس عمل میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی۔ درخواست گزاروں نے ہفتہ (27 جولائی 2025) کو سپریم کورٹ کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ زیادہ تر فارم بغیر دستاویزات کے جمع کرائے گئے۔آر جے ڈی نے الزام لگایاکہ ٹارگٹ کو وقت پر پورا کرنے کے لیے، الیکشن کمیشن ووٹروں کی جانکاری یا رضامندی کے بغیر بڑے پیمانے پر BLOs کے ذریعے گنتی کے فارم اپ لوڈ کر رہا ہے۔ بہت سے ووٹروں نے اطلاع دی ہے کہ ان کے فارم آن لائن جمع کرائے گئے ہیں، جب کہ وہ کبھی کسی BLO سے نہیں ملے اور نہ ہی کسی دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔” اے ڈی آر نے کہا کہ مردہ افراد کے فارم بھی جمع کرائے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ میں اپنے جواب میں آر جے ڈی نے کہاکہ میڈیا رپورٹس میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں جہاں ووٹروں نے شکایت کی ہے کہ بی ایل او ان کے گھر یا محلے میں نہیں آئے۔ بی ایل او بھی فارم پر ووٹروں کے جعلی دستخط کرکے اپ لوڈ کرتے ہوئے پائے گئے۔ سپریم کورٹ پیر (28 جولائی 2025) کو اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ الیکشن کمیشن نے بہار میں ووٹر لسٹ کے لیے جاری کردہ ایس آئی آر کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ووٹر لسٹ سے نااہل افراد کے نام ہٹانے سے الیکشن کی پاکیزگی بڑھے گی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

