نئی دہلی: یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لیئن 23 جنوری کو سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچیں۔ ان کی آمد بھارت کے 77ویں یوم جمہوریہ سے قبل ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ ہوائی اڈے پر وزیرِ مملکت برائے تجارت و صنعت جتن پرساد نے ان کا استقبال کیا۔ اُرسولا وان ڈیر لیئن یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئیس سانتوس دا کوسٹا کے ساتھ 26 جنوری کو یومِ جمہوریہ پریڈ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں گی۔ اس کے بعد 27 جنوری کو نئی دہلی میں ہونے والا 16واں بھارت-یورپی یونین سربراہی اجلاس اس دورے کا مرکزی نکتہ ہوگا۔
’’ہم بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے قریب ہیں‘‘
اُرسولا وان ڈیر لیئن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’ہم یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ جلد دہلی میں ملاقات ہوگی۔‘‘ ان کا یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ برسوں سے زیرِ التوا بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے اب حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
« The mother of all trade deals »
We are closing in on the 🇪🇺🇮🇳 Free Trade Agreement.
See you soon in Delhi. pic.twitter.com/gfiLv2eEam
— Ursula von der Leyen (@vonderleyen) January 24, 2026
وزیر اعظم مودی سے ملاقات، شراکت داری کا جائزہ
یورپی کونسل کے بیان کے مطابق دونوں یورپی رہنما وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے، جس میں بھارت-یورپی یونین اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا جائے گا اور اسے مزید گہرا کرنے پر بات چیت ہوگی۔ ایجنڈے میں تجارت، سلامتی و دفاعی تعاون، صاف توانائی کی منتقلی اور عوامی روابط شامل ہیں۔ اگرچہ کئی امور زیرِ بحث ہوں گے، تاہم تجارت اس اجلاس کا مرکزی موضوع رہے گی۔ اس ہفتے داووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران اُرسولا وان ڈیر لیئن نے اس معاہدے کو ’’تمام معاہدوں کی ماں‘‘ قرار دیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت میں تیزی آئی ہے۔
27 جنوری کو اعلان کے قوی امکانات
ذرائع کے مطابق 27 جنوری کو ہونے والے سربراہی اجلاس میں تجارتی معاہدے کے اعلان کی بھرپور توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم معاہدے پر دستخط کے بعد اسے یورپی پارلیمنٹ سے منظوری لینا ہوگی، جو کم از کم ایک سال کا وقت لے سکتی ہے۔ اگر یہ معاہدہ نافذ ہو جاتا ہے تو بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل اور زیورات جیسے بھارتی شعبوں کو فائدہ ہوگا، جو حالیہ مہینوں میں امریکی ٹیرف میں اضافے سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 2023 میں یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی سہولت ختم ہونے کے بعد بھارت کو جو نقصان ہوا تھا، اس کی تلافی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ یہ معاہدہ گزشتہ چار برسوں میں بھارت کا نواں تجارتی معاہدہ ہوگا، جو اس بات کی علامت ہے کہ بھارت عالمی سطح پر بڑھتے تحفظاتی رجحانات کے باوجود نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے سرگرم ہے۔ بھارت پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت میں آسانی اور آئی ٹی و سروس سیکٹر کے لیے بہتر مواقع کا بھی خواہاں ہے۔
بھارت-یورپی یونین تجارت کی موجودہ صورتِ حال
یورپی یونین کے لیے یہ معاہدہ سپلائی چین کو متنوع بنانے، چین پر انحصار کم کرنے اور بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی 4.2 ٹریلین ڈالر کی معیشت سے فائدہ اٹھانے کا ایک اہم ذریعہ ہوگا۔ یورپی یونین بھارت کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔ 2024-25 میں دونوں کے درمیان اشیا اور خدمات کی تجارت 190 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ بھارت نے تقریباً 76 ارب ڈالر کی اشیا اور 30 ارب ڈالر کی خدمات برآمد کیں۔ اگرچہ یورپی یونین میں اوسط ٹیرف 3.8 فیصد ہے، تاہم ٹیکسٹائل جیسے محنت طلب شعبوں پر تقریباً 10 فیصد ڈیوٹی عائد ہے، جس میں کمی بھارت کی بڑی ترجیح ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


