مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بار پھر ’ووٹر لسٹ‘ کے معاملے پر گھمسان شروع ہو گیا ہے۔ بھارت کے الیکشن کمیشن (ای سی آئی) نے اس بار ممتا حکومت کے خلاف سخت رخ اختیار کرتے ہوئے ایک طرح سے الٹی میٹم جاری کر دیا ہے۔ معاملہ اُن افسران سے جڑا ہے جن پر ووٹر لسٹ میں فرضی نام شامل کرنے اور دھاندلی کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ منگل یعنی 17 فروری تک ان مبینہ قصوروار افسران کے خلاف ایف آئی آر درج ہو جانی چاہیے۔
آخر کیا ہے پورا معاملہ؟
دراصل ریاست میں جب ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِ ثانی (اسپیشل انٹینسو ریویژن) جاری تھی، تب الیکشن کمیشن کو ایسی کئی شکایات موصول ہوئیں جنہوں نے منصفانہ انتخابات کے دعوؤں پر سوال کھڑے کر دیے۔ جانچ کے دوران پایا گیا کہ بعض افسران نے جان بوجھ کر ووٹر لسٹ میں ایسے نام شامل کیے جو فرضی تھے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق بار بار یاد دہانی کرانے کے باوجود جب بنگال حکومت نے ان افسران کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی تو ہفتہ کی شام کمیشن نے براہِ راست ریاستی سیکریٹریٹ کو خط بھیج کر ڈیڈ لائن مقرر کر دی۔ کمیشن اس بات پر ناراض ہے کہ شواہد ملنے کے باوجود ریاستی حکومت اب تک سست روی کا مظاہرہ کیوں کر رہی ہے۔
کن پر گاج گرنے کی تیاری؟
کمیشن نے بنیادی طور پر چار افسران کو نشانے پر لیا ہے۔ ان میں جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے باروئی پور پورب اسمبلی حلقے کے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر (ای آر او) دیبوتّم دتہ چودھری اور ان کے معاون تتھاگت منڈل شامل ہیں۔ اسی طرح مشرقی مدناپور کے موئینا اسمبلی حلقے سے ای آر او بپلب سرکار اور اے ای آر او سدپتا داس کے خلاف بھی سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان چاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر ووٹر لسٹ میں چھیڑ چھاڑ کی۔
پرانے تنازع کی نئی چنگاری
یہ تنازع آج کا نہیں ہے۔ گزشتہ سال اگست میں ہی الیکشن کمیشن نے ان افسران کو معطل کرنے اور مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس وقت وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کمیشن کے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی تھی۔ انہوں نے الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ کمیشن ’بی جے پی کے بندھوا مزدور‘ کی طرح کام کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کی حکومت اپنے ملازمین کے خلاف ایسی کسی کارروائی کو آگے نہیں بڑھائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

