راجیہ سبھا کے رکن اور سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے مذہبی تعلیم کے معاملے پر ہندوؤں کے زیرِ انتظام تعلیمی اداروں کو اقلیتی اداروں کی طرح حقوق دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین تمام شہریوں کو برابری کا حق دیتا ہے، مگر مذہبی تعلیم کے معاملے میں عملی طور پر عدم مساوات موجود ہے۔
ہندو تعلیمی اداروں سے متعلق ڈاکٹر دنیش شرما کی تشویش
ڈاکٹر شرما نے راجیہ سبھا میں وقفہ صفر کے دوران کہا کہ اقلیتی ادارے سرکاری امداد حاصل کرنے کے باوجود مذہبی تعلیم دے سکتے ہیں، جبکہ ہندو تعلیمی اداروں کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ اس فرق کو ختم کرنے کے لیے تمام اداروں کو یکساں ادارہ جاتی خودمختاری فراہم کی جانی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 29 اور 30 کی وجہ سے تعلیمی شعبے میں عملی عدم مساوات پیدا ہو گئی ہے۔ اقلیتوں کو آرٹیکل 30(1) کے تحت اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور مذہبی تعلیم دینے کا حق حاصل ہے، جبکہ ہندو ادارے اس حق سے عملی طور پر محروم ہیں۔ اسی طرح تعلیم کا حق قانون میں اقلیتی اداروں کو چھوٹ حاصل ہے، جبکہ ہندو اداروں پر یہ قانون انتظامی اور مالی بوجھ بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ سرکاری مداخلت سے بچنے کے لیے رام کرشن مشن نے اپنے اسکولوں کو اقلیتی درجہ دلانے کی کوشش کی تھی، جو کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسی طرح آریہ سماج کے زیر انتظام ڈی اے وی اداروں اور کرناٹک کی لنگایت برادری کے زیر انتظام اداروں نے بھی ایسی کوششیں کیں، مگر انہیں کامیابی نہیں ملی۔
مذہبی تعلیم کے معاملے میں بھی عدم توازن پایا جاتا ہے
انہوں نے کہا کہ مذہبی تعلیم کے معاملے میں بھی عدم توازن پایا جاتا ہے۔ اقلیتی اداروں کے مدارس قرآن پڑھا سکتے ہیں اور مشنری ادارے بائبل کی تعلیم دے سکتے ہیں، لیکن ہندو اداروں کو وید یا گیتا پڑھانے پر سیکولرزم کے نام پر اعتراضات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری امداد حاصل کرنے والے ہندو اداروں کو تو اس کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ ڈاکٹر شرما نے کہا کہ ’ایک ملک، ایک قانون‘ کے اصول کے تحت سب کو یکساں ادارہ جاتی خودمختاری ملنی چاہیے۔ انہوں نے آرٹیکل 29 اور 30 میں ترمیم کرتے ہوئے تمام شہریوں کو مذہبی تعلیم دینے کا برابر حق دینے کی تجویز پیش کی۔انہوں نے واضح کیا کہ ان کی اس مانگ کو ہندو مسلم زاویے سے نہ دیکھا جائے، بلکہ یہ صرف مساوی حقوق کی بات ہے۔ راجیہ سبھا میں اس معاملے کو اٹھائے جانے پر 17 دیگر اراکین پارلیمنٹ نے بھی ان کی حمایت کی اور ایوان میں زوردار تالیوں کے ساتھ ان کے خیالات کا خیر مقدم کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

