کروڑوں روپے کی بینک دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے کھیل میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے ایک بڑی مچھلی کو جال میں پھانس لیا ہے۔ کولکاتا کے رہائشی 40 سالہ پرتیوش کمار سوریکا کو ای ڈی نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی 16 جنوری کو پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت انجام دی گئی۔ پورا معاملہ ’’شری گنیش جیولری ہاؤس (انڈیا) لمیٹڈ‘‘ نامی کمپنی سے جڑا ہوا ہے۔
کیسے ہوا انکشاف؟
دراصل اس کہانی کی شروعات اس وقت ہوئی جب سی بی آئی نے کمپنی اور اس کے پروموٹرز کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ الزام ہے کہ ان افراد نے مل کر 25 بینکوں کے ایک بڑے کنسورشیم کے ساتھ تقریباً 2,672 کروڑ روپے کی خردبرد کی۔ جب ای ڈی نے اس معاملے کی باریک بینی سے جانچ شروع کی تو ایک کے بعد ایک کئی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔
تحقیقات میں معلوم ہوا کہ سال 2011-12 کے دوران کمپنی کو بینکوں سے جو رقم زیورات کے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے ملی تھی، اسے خفیہ طور پر سولر پاور پروجیکٹس میں منتقل کر دیا گیا۔ اس ہیر پھیر کے لیے ’’الیکس ایسٹرل پاور پرائیویٹ لمیٹڈ‘‘ اور اس کی معاون کمپنیوں کا سہارا لیا گیا۔ پرتیوش کمار سوریکا کو 2012 میں اس کمپنی کا جوائنٹ منیجنگ ڈائریکٹر بنایا گیا تھا، اور یہیں سے یہ کھیل مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔
بینکوں کو کروڑوں کا چونا
ایک طرف جہاں تقریباً 400 کروڑ روپے کا سولر پاور پروجیکٹ تیار تھا، اسے کاغذی دھوکہ دہی کے ذریعے محض 20 کروڑ روپے سے بھی کم قیمت پر منتقل کر دیا گیا۔ اس سودے میں بینکوں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ پردے کے پیچھے سوریکا اور ان کے قریبی لوگوں کا مکمل کنٹرول برقرار رہا۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ سوریکا نے اس بدعنوانی کو انجام دینے کے لیے فرضی بورڈ ریزولوشن تیار کیے، پرانے دستاویزات میں چھیڑ چھاڑ کی اور ڈیجیٹل دستخطوں کا غلط استعمال کیا۔ اس کے علاوہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے انہوں نے ’’ڈمی‘‘ یعنی فرضی ڈائریکٹروں کی تقرری بھی کی۔
فرضی قرض اور جھوٹے اخراجات
بتایا جاتا ہے کہ شری گنیش جیولری ہاؤس کے پروموٹر نیلیش پاریکھ کو سولر پروجیکٹ سے ہونے والی کمائی نقد رقم کی صورت میں ملتی تھی، جبکہ کاغذوں میں سب کچھ فروخت دکھا دیا گیا تھا۔ سوریکانے اس رقم کو اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی کمپنیوں میں فرضی قرض اور جھوٹے اخراجات کے نام پر گھماتے رہے۔
جب قانون کا شکنجہ کسنے لگا تو سوریکانے تفتیش میں تعاون کرنے کے بجائے ملک چھوڑنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ 5 جنوری کو کولکاتا ایئرپورٹ پر انہیں اس وقت روک لیا گیا جب وہ تھائی لینڈ فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے خلاف پہلے ہی لک آؤٹ سرکلر جاری کیا جا چکا تھا۔ فی الحال عدالت نے انہیں چار دن کی ریمانڈ پر بھیج دیا ہے، جس سے امید کی جا رہی ہے کہ پوچھ گچھ کے دوران مزید کئی بڑے راز سامنے آئیں گے۔ اس گرفتاری کو بینکنگ شعبے میں دھوکہ دہی کرنے والوں کے لیے ایک بڑی وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

