گھریلو جھگڑے نے نہ جانے کتنی زندگیاں تباہ کر دی ہیں۔ اس کی وجہ سے ہر سال کئی بچے یتیم ہو جاتے ہیں اور کئی ماؤں کی گود سونی ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ جھارکھنڈ کے دمکا سے سامنے آیا ہے، جہاں گھریلو جھگڑے کی وجہ سے ایک باپ نے اپنی بیوی اور دو معصوم بچوں کو قتل کر کے خود بھی پھانسی لگا کر جان دے دی۔ ایک ہی جھٹکے میں پورا خاندان ختم ہونے کی خبر ملتے ہی علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مرنے والوں کی شناخت بیرندر مانجھی (30 سال) شوہر، آرتی کماری (24 سال) بیوی، روحی (4 سال) بیٹی اور وِراج کمار (2 سال) بیٹا کے طور پر ہوئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔
کیا ہے معاملہ؟
اطلاعات کے مطابق مرنے والی آرتی کا مائیکا دیوگھر ضلع کے پالاجوری میں ہے۔ مرنے والے بیرندر مانجھی ہفتے کے دن ہی اپنی بیوی اور دونوں بچوں کو مائیکے سے اپنے گاؤں بردیہی لے کر آیا تھا۔ رشتہ داروں کے مطابق چھوٹے بیٹے وراج کے دل میں سوراخ تھا اور اسے بھیلور لے جانے کی تیاری چل رہی تھی۔ مرنے والے کے والد منوج مانجھی کے مطابق رات میں شوہر اور بیوی کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا۔ شبہ ہے کہ غصے میں آ کر بیرندر نے پہلے بیوی اور دونوں بچوں کو قتل کیا اور بعد میں خود پھانسی لگا کر اپنی زندگی ختم کر لی۔
پولیس جانچ میں مصروف
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ہنسڈیہا پولیس موقع پر پہنچی اور چاروں لاشوں کو قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ پولیس مختلف زاویوں سے پورے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔
گاؤں میں ماتم کا ماحول
گاؤں میں ایک ہی وقت میں چار موتوں کے بعد علاقے میں غم کی فضا چھا گئی ہے۔ آس پاس کے لوگ اسے حالیہ برسوں کا سب سے دردناک خاندانی سانحہ قرار دے رہے ہیں۔
ایس پی نے واقعہ کی تصدیق کی
ایک ہی خاندان کے چار افراد کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد دمکا ایس پی پیتامبر سنگھ کھروار بھی موقع پر پہنچے۔ انہوں نے بتایا کہ چاروں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور معاملے کی جانچ جاری ہے۔ ابتدائی طور پر یہ نظر آ رہا ہے کہ شوہر نے بیوی اور بچوں کو قتل کر کے خودکشی کی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی آئندہ کی کارروائی کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



