نئی دہلی — وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق ہندوستان کے ٹیکس انتظامی نظام نے گزشتہ ایک دہائی میں انقلابی تبدیلی دیکھی ہے، جہاں ٹیکس ریفنڈز کی شرح میں ٹیکس وصولی کے مقابلے تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے۔
ریفنڈ میں 474 فیصد کا زبردست اضافہ
سال 2013-14 میں 83,008 کروڑ روپے کے ریفنڈ جاری کیے گئے تھے، جو 2024-25 میں بڑھ کر 4,76,743 کروڑ روپے ہو گئے — یعنی 474 فیصد کا اضافہ۔ اسی مدت میں مجموعی براہ راست ٹیکس وصولی 274 فیصد بڑھی، جو 7,21,604 کروڑ سے بڑھ کر 27,02,974 کروڑ روپے ہو گئی۔
ریفنڈ پراسیسنگ میں 81 فیصد کمی
ٹیکس دہندگان کو ریفنڈ ملنے کا اوسط وقت 2013 میں 93 دن تھا، جو 2024 میں گھٹ کر صرف 17 دن ہو گیا ہے۔ یہ 81 فیصد کی بہتری ہے، جو ہندوستان کی ڈیجیٹل ٹیکس اصلاحات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ڈیجیٹلائزیشن نے بدلے ٹیکس کے طریقے
آن لائن فائلنگ
چہرہ نہ دکھانے والے (faceless) اسسمنٹ
خودکار ریفنڈ پراسیسنگ
پری فِلڈ ریٹرن، ریئل ٹائم TDS ایڈجسٹمنٹ
آن لائن شکایت حل نظام
یہ سب اصلاحات اس بدلاؤ کی بنیاد بنی ہیں۔
ٹیکس دہندگان کی تعداد میں 133 فیصد اضافہ
2013 میں 3.8 کروڑ افراد نے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کیے، جب کہ 2024 میں یہ تعداد 8.89 کروڑ تک پہنچ گئی — 133 فیصد کا اضافہ۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان کی معیشت مزید باضابطہ (formalised) ہو رہی ہے۔
ریفنڈ کا حصہ بھی بڑھا
مجموعی ٹیکس وصولی میں سے ریفنڈ کا حصہ 2013-14 میں 11.5 فیصد تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 17.6 فیصد ہو گیا۔ محکمہ انکم ٹیکس کے افسر کے مطابق: ریفنڈ میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ ٹیکس دہندگان کی رضاکارانہ شرکت بڑھ رہی ہے اور ایڈوانس ٹیکس ادائیگی کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔
معاشی فوائد: سرمایہ کی روانی میں بہتری
جلد ریفنڈ سے کاروبار اور افراد کی کیش فلو بہتر ہوتی ہے اور زیادہ ریفنڈز سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت زیادہ شفاف اور منظم ہو رہی ہے۔ اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کا ٹیکس نظام اب صرف اصلاحات کا خواہاں نہیں، بلکہ وہ کارکردگی، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کی سہولت کو عملی طور پر اپنا چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





